خطبات محمود (جلد 38) — Page 197
$1957 197 خطبات محمود جلد نمبر 38 میں نے کبھی ان لوگوں کو پکے کا فرنہیں کہا۔میں صرف یہ کہا کرتا ہوں کہ جتنی جتنی کمزوری کسی میں پائی جاتی ہے اُتنی ہی اُس کے اسلام میں کمی ہے۔پھر میں نے کہا یہ عجیب بات ہے کہ آپ خود انہیں پکے کافر کہتے ہیں اور مجھ سے آ کر اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ آپ اور آپ کی جماعت کے افراد کی سرے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔حالانکہ نہ ہم مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں، نہ یہ کہتے ہیں کہ وہ قرآن کے منکر ہیں یا کلمہ کے منکر ہیں یا کعبہ کے منکر ہیں۔ہاں ! جو ان کی غلطی ہے وہ انہیں بتا دیتے ہیں۔مثلاً یہی کہ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی اتنی آیتیں منسوخ ہیں یا انبیاء پر وہ مختلف قسم کے الزامات لگاتے ہیں۔مثلاً حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق کہتے ہیں کہ ایک دفعہ انہوں نے پاخانہ میں جاتے ہوئے انگوٹھی اُتاری اور اپنی بیوی کو دے دی۔شیطان نے اُن کی شکل اختیار کر کے اُس بیوی سے وہ انگوٹھی مانگی اور اُس نے اُن کو سلیمان سمجھ کر وہ انگوٹھی دے دی۔جب حضرت سلیمان علیہ السلام پاخانہ سے واپس آئے تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میری انگوٹھی کہاں ہے؟ اس نے کہا میں نے تو آپ کو دے دی ہے۔حضرت سلیمان نے کہا یہ جھوٹ ہے۔مجھے کوئی نہیں دی۔اس کے بعد حضرت سلیمان کی شکل میں کوئی ایسا تغیر واقع ہوا کہ جدھر نکلتے تھے لوگ اُن پر ہنسی اڑاتے تھے اور حضرت سلیمان بھی بڑے متعجب تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔گھر میں جاتے اور نوکروں سے روٹی مانگتے تو وہ کبھی دے دیتے اور کبھی انکار کر دیتے۔کیونکہ سمجھتے تھے کہ یہ سلیمان نہیں۔ایک دن ایک بیوی نے رحم کر کے ان کو روٹی دی اور ساتھ مچھلی بھی دے دی۔وہ مچھلی انہوں نے کھائی تو اس میں سے انگوٹھی نکل مالی آئی جو انہوں نے پہن لی اور اُس سے یکدم تغیر واقع ہو گیا اور سب جن و انس ان کی اطاعت کرنے لگے۔لوگوں کو اس لیے بھی ان کے سلیمان ہونے پر یقین آگیا کہ جب حضرت سلیمان نے اصرار سے یہ دعوای جاری رکھا کہ اصل سلیمان میں ہوں تو لوگوں کے دل میں مشبہ پیدا ہوا اور انہوں نے ان کی بیویوں کے پاس عور تیں بھیجیں کہ کیا اس شخص یعنی شیطان کے اندر آنے کے بعد کوئی چیز آپ کو ایسی نظر آئی ہے جو سلیمان کے طریق کے خلاف ہو؟ انہوں نے کہا ایک فرق ہے کہ سلیمان ہمیشہ حیض کے ایام میں ہمارے قریب نہیں آیا کرتا تھا مگر یہ خص یعنی شیطان آ جاتا ہے۔اس پر لوگوں پر یہ بات واضح ہو گئی کہ سلیمان کی شکل اختیار کر کے شیطان سلیمان بنا ہوا ہے۔یہ روایت مجاہد کی طرف منسوب کی گئی ہے جو حضرت ابن عباس کے نہایت مقرب شاگرد تھے۔