خطبات محمود (جلد 38) — Page 196
196 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 کہ جو تم سے اختلاف کرے اسے کافر کہا کرو؟ اختلاف پر کافر کہنے کے تو یہ معنے ہیں کہ جس قسم کی شلوار میں نے پہنی ہوئی ہے اگر اس قسم کی شلوار کوئی دوسرا شخص نہ پہنے یا جس قسم کی پگڑی میں نے پہنی ہوئی ہے اگر اس قسم کی پگڑی کوئی دوسرا شخص نہ پہنے یا جس قسم کی جوتی میں نے پہنی ہوئی ہے اگر اس قسم کی جھوٹی کوئی دوسرا شخص نہ پہنے تو میں اُسے کا فرکہ دوں۔بتاؤ کیا میں نے کبھی کہا ہے کہ ایسا شخص کافر ہے؟ انہوں نے کہا ہر گز نہیں۔آپ نے ہمیں کبھی ایسا نہیں کہا۔اس پر وہ اور زیادہ گھبرایا اور اس نے اپنی بات کو درست کرنے کی کوشش کی اور کہا میں نے سنا ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو جو مسلمان کہلاتے ہیں اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور روزے بھی رکھتے ہیں کا فر کہتے ہیں۔میں نے کہا اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ بات کیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ کافر کا لفظ تو میں ان میں سے کسی کے لیے نہیں بولتا۔مگر مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو انبیاء علیہم السلام پر مختلف قسم کے الزامات عائد کرتے ہیں۔مثلاً کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ( نَعُوذُ بِاللهِ ) تین جھوٹ بولے تھے 2ے۔یا بعض کہتے ہیں کہ حضرت داؤد کی ننانوے بیویاں تھیں۔اس کے بعد ایک جرنیل جس کا نام اور یا بن حتان تھا اُس کی بیوی آپ کو پسند آ گئی اور حضرت داؤد نے اُس کی بیوی پر قبضہ کرنے کے لیے اس جرنیل کو ایک خطر ناک مقام پر بھجوا دیا اس ارادہ سے کہ اگر یہ مارا جائے تو اُس کی بیوی سے شادی کرلوں۔سو اس ارادہ کی برائی ظاہر کرنے کے لیے دوفرشتے آپ کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے یہ جھوٹا قصہ گھڑ کر بیان کرنا شروع کر دیا کہ یہ میرا بھائی ہے اور اس کی ننانوے دُنبیاں ہیں اور میری صرف ایک دنبی ہے۔مگر پھر بھی یہ کہتا ہے کہ اپنی دُنبی مجھے دے دے۔گویانعُوذُ بِاللهِ فرشتوں نے حضرت داؤد پر الزام لگایا کہ ان کا فعل درست نہیں تھا اور ایک جھوٹا قصہ گھڑ کر ان کے سامنے بیان کر دیا۔3 میں ایسے لوگوں کے متعلق کہتا ہوں کہ یہ پکے مسلمان نہیں ہیں۔اس پر وہ عرب بے اختیار کہنے لگا کہ پکے مسلمان ہونے کا کیا سوال ہے ایسے لوگ تو پکے کا فر ہیں۔میں نے کہا آپ بے شک پکے کا فر ہیں مگر میں نے تو ہمیشہ یہی کہا ہے کہ ان لوگوں کے اسلام میں کمزوری پائی جاتی ہے۔پھر میں نے دوستوں کی طرف دیکھا اور کہا کیا میں نے تمہیں کبھی کہا ہے کہ یہ لوگ پکے کافر ہیں؟ انہوں نے کہا آپ نے ایسا کبھی نہیں کہا۔وہ کہنے لگا آپ بے شک ان کو کافر نہ کہیں لیکن میرا تو عقیدہ ہے کہ ایسے لوگ جو نبیوں پر الزام لگانے سے دریغ نہیں کرتے پکے کافر ہیں۔میں نے اُسے کہا آپ بے شک جو چاہیں کہیں