خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 10

$1957 10 خطبات محمود جلد نمبر 38 اسے دو تین ہفتہ تک ہسپتال میں داخل کیوں نہیں کرواتے تا کہ وہ ڈاکٹروں کی زیر نگرانی رہے اور اس مرض سے چھٹکارا حاصل کرلے؟ میں نے کہا دو تین ہفتے تو کیا میں تو اسے دو تین مہینہ تک بھی ہسپتال میں رکھنے کے لیے تیار ہوں بشرطیکہ ڈاکٹر کہیں کہ اتنے عرصہ تک اسے ہسپتال میں رکھنا مفید ہو سکتا ہے۔پروفیسر ٹلٹاک کہنے لگے یہ تو بڑا لمبا عرصہ ہے آپ اسے دو تین ہفتہ تک ہی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی زیر نگرانی رکھیں۔اسے دیکھ کر بڑا رحم آتا ہے۔موٹر میں بیٹھا ہوتا ہے اور یکدم اسے درد کا دورہ ہوتا ہے تو اس کا ہاتھ مروڑا جاتا ہے۔وہ اُسی وقت ڈبیہ سے دو گولیاں نکالتا اور کھا لیتا ہے جس سے کچھ افاقہ ہو جاتا ہے۔مجھے یہ سن کر بڑا افسوس ہوا کہ مرکزی دفتر نے اس طرف توجہ نہیں کی۔اب میں نے دفتر کو حکم دیا ہے کہ خرچ کا اندازہ تو لگاؤ۔وہ وہاں اکیلا ہے اور مبلغ کو یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ اگر وہ ہسپتال میں داخل ہو گیا تو اس کے بعد تبلیغ کا کام کون کرے گا؟ اس لیے میں نے یہ بھی کہا ہے کہ جرمنی میں ایک اور مبلغ بھجوانے کا انتظام کریں اور دوسرے اخراجات کا اندازہ لگوائیں۔میں نے جب اپنی ایک بیٹی کو وہاں علاج کے لیے بھجوایا تو وہاں تین پونڈ روزانہ خرچ ہوتا تھا۔اگر لطیف ایک ماہ بھی ہسپتال میں رہے تو اس حساب سے توے پونڈ بن جاتے ہیں اور اتنی رقم ایک بڑی جماعت کے لیے اپنے ایک مخلص مبلغ کی جان بچانے کے لیے خرچ کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔یہ ساری رقم قریباً بارہ سو روپے بنتی ہے اور ایک مخلص مبلغ جو ایک اہم جگہ پر تبلیغ کر رہا ہے اور بڑی محنت سے کام کر رہا ہے اس کے لیے بارہ سو روپے کی رقم خرچ کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔اگر تحریک پر اس رقم کا خرچ کرنا بوجھ ہو تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی رقم میں بھی دے سکتا ہوں اور میں نے انہیں اسی نیت سے لکھا تھا کہ وہ اخراجات کا اندازہ لگائیں تو رقم میں ہی دے دوں گا۔باہر مبلغ بھیج کر دفتر کا بے پروائی سے بیٹھ جانا نہایت افسوسناک ہے آج ہی مجھے تحریک جدید کے ایک کارکن کی طرف سے اطلاع آئی ہے کہ فلاں ضروری دفتر نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے عبداللطیف صاحب کو لکھا ہے کہ وہ خرچ کا اندازہ بھجوائیں لیکن ساتھ ہی لطیف صاحب کی بھی تار آ گئی ہے کہ میں بیمار نہیں اچھا ہوں۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ تارانہوں نے مرکز کی تسلی کے لیے دی ہے اور محض ان کی قربانی اور اخلاص پر دلالت کرتی ہے۔ورنہ جیسا کہ گواہیوں سے ثابت ہے وہ بیمار ہیں۔