خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 9

$1957 9 خطبات محمود جلد نمبر 38 تو میں اسے پہچان سکوں گا (خط میں اس کا نام نہیں دیا گیا تھا )۔بہر حال پروفیسر ٹلٹاک نے کہا کہ سارے نائسی لیڈروں سے میرے تعلقات تھے۔میں واپس جا کر اس نوجوان کا پتا کروں گا اور اس سے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کروں گا۔وہ نوجوان مسلمان تو نہیں ہوا لیکن وہ اس خاندان سے تعلق رکھتا ہے جس کی ہٹلر کی حکومت میں اتنی عظمت تھی کہ اس کے باپ کو اتحادیوں نے خاص آدمیوں میں شمار کیا۔اس پر مقدمہ چلایا اور اسے قید رکھا۔اس سے پتا لگتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے اور نائسی لوگ جو کسی وقت جرمنی کے بادشاہ تھے ان میں اسلام پھیل جائے۔تو چونکہ وہ ملک میں بڑا رسوخ رکھتے ہیں اس لیے بعید نہیں کہ ان میں سے چند آدمیوں کے احمدی ہو جانے کے بعد سارے جرمنی میں اسلام ترقی کرنے لگ جائے۔پچھلے سال جب میں مری میں تھا تو میں نے ایک رؤیا دیکھا کہ جرمنی کے مبلغ کا ایک خط آیا ہے کہ جرمنی کا ایک بہت بڑا آدمی احمدی ہو گیا ہے۔بعد میں رویا میں ہی مجھے تار بھی آئی اور اس میں بھی یہ لکھا تھا کہ وہ احمدی ہو گیا ہے اور اُمید ہے کہ اس کے ذریعہ جرمنی میں جماعت کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔یہ دونوں واقعات بتاتے ہیں کہ یہ اسی رؤیا کی تائید میں ہیں۔گوا بھی ان کی حیثیت ایک گٹھلی کی سی ہے شگوفہ اور پھل نہیں نکلا۔لیکن ان سے اُمید پیدا ہوتی ہے کہ جس خدا نے مئی میں مجھے یہ باتیں بتائی تھیں اور اب جنوری میں اس کی تائید میں باتیں نکلنی شروع ہوئی ہیں وہ اس کو پورا کرنے کے سامان بھی پیدا کر دے گا۔اور کوئی بعید نہیں کہ جلد ہی جرمنی کے بااثر خاندانوں میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں جو اسلام سے محبت رکھتے ہوں اور سارے جرمنی میں اس کی ترقی کے لیے کوشش کرنے والے ہوں۔اُسی دن پروفیسر ٹلٹاک نے ایک اور بات بھی بیان کی جو بڑی تکلیف دہ تھی اور مرکزی دفتر کی سستی پر دلالت کرتی تھی۔پروفیسر ٹلٹاک نے سرسری طور پر باتوں باتوں میں کہا کہ لطیف بڑا کارآمد شخص ہے اور بڑی اچھی تبلیغ کر رہا ہے لیکن اسے دیکھ کر رحم آتا ہے۔اس کے پیٹ میں بیماری ہے ، در داٹھتی ہے تو اس کے ہاتھ مروڑے جاتے ہیں۔ڈاکٹر نے اسے کچھ گولیاں دی ہوئی ہیں۔ان کی سے ایک دو گولیاں وہ کھا لیتا ہے تو اُسے آرام آ جاتا ہے۔پروفیسر ٹلٹاک نے مجھے کہا کہ آ۔