خطبات محمود (جلد 38) — Page 172
$1957 172 خطبات محمود جلد نمبر 38 احمدیوں میں فرق ہے۔یہاں چالیس چالیس اور پچاس پچاس سال سے لوگ احمدی ہیں اور وہاں بعض کو احمدی ہوئے صرف ایک ایک سال ہوا ہے اور پھر وہ ہم سے بہت دور رہتے ہیں۔مگر اب انہوں نے لکھا ہے کہ ہم آپ کے خطوط کی وجہ سے محسوس کرتے ہیں کہ آپ ہمارے بہت قریب ہو گئے ہیں۔میں نے انہیں جواب دیا ہے کہ بے شک فتنہ تو پیدا ہو گیا تھا مگر اُس کا صرف یہی نتیجہ نہیں نکلا کہ آپ لوگ یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ میں آپ کے قریب ہو گیا ہوں بلکہ میں بھی محسوس کر رہا ہوں کہ آپ لوگ میرے قریب ہو گئے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ چاہے گا تو آہستہ آہستہ وہاں کی جماعت میں ترقی ہوتی چلی جائے گی جس کے نتیجہ میں شاید سورج کا مغرب سے نکلنا امریکہ کے ذریعہ ہی پورا ہو جائے اور پھر آہستہ آہستہ یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی اس کا ظہور شروع ہو جائے۔انگلستان پر افسوس آتا ہے کہ وہاں کی جماعت نے ابھی ترقی نہیں کی۔حالانکہ انگلستان میں زیادہ تر خدمت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو ہندوستان سے گئے ہیں مگر ابھی تک انگلستان کے رہنے والوں میں سے ایسے دس ہیں آدمی بھی پیدا نہیں ہوئے جو اپنی ذات میں مخلص اور اسلام کی اشاعت کرنے والے ہوں۔امریکہ میں ایسے سینکڑوں لوگ ہیں۔جرمنی میں بھی دس پندرہ آدمی ہیں اور اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جرمنی میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں تک جماعت پہنچ جائے گی اور امریکہ میں تو بعید نہیں کہ تھوڑے عرصہ میں ہی لاکھ دو لاکھ تک جماعت پہنچ جائے۔بلکہ اس سے بھی زیادہ پہنچ جائے۔بہر حال ہمیں اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے کہ اُس کی پیشگوئیاں ضرور پوری ہوں گی اُس سے دعائیں کرتے رہنا چاہیے کہ وہ اپنے فضل سے ان پیشگوئیوں کو جلد پورا فرمائے۔یہ بھی انسان کے لیے برکت کی بات ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں کرتا رہے کہ اس کی پیشگوئیاں جلد پوری ہوں۔اللہ تعالیٰ اپنے ایسے بندہ سے بہت خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ گو اس نے میری ہی پیشگوئیوں کو مجھ سے جلد پورا کرنے کی التجا کی ہے مگر اس سے ظاہر ہے کہ یہ دنیا میں میرے قول کو سچا ثابت کرنا چاہتا ہے اور اگر یہ مجھے سچا ثابت کرنا چاہتا ہے تو مجھے بھی اسے سچی اور بے عیب زندگی عطا کرنی چاہیے کیونکہ اس نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ اس کی رضا میری رضا میں اور اس کی خوشی میری خوشی میں ہے۔غرض ایسے معاملات میں دعا کرنا خود دعا کرنے والے کے لیے بھی مفید ہوتا ہے۔