خطبات محمود (جلد 38) — Page 150
خطبات محمود جلد نمبر 38 150 $1957 صاحب کہنے لگے کہ تجھے کیا ہو گیا کہ تو نے مرزا صاحب کی بیعت کر لی ہے۔معلوم ہوتا۔نور الدین نے تجھ پر جادو کر دیا ہے۔وہ آئیں تو حضرت خلیفہ اول سے انہوں نے اس کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا اگر پھر بھی پیر صاحب سے ملنے کا اتفاق ہو تو انہیں کہنا کہ آپ کے عمل آپ کے ساتھ ہیں اور میرے عمل میرے ساتھ ہیں۔میں نے تو مرزا صاحب کو اس لیے مانا ہے کہ اگر آپ کو نہ مانا تو ہے قیامت کے دن مجھے جوتیاں پڑیں گی۔آپ بتائیں کہ آپ اس دن کیا کریں گے؟ جب وہ واپس گئیں تو انہوں نے پیر صاحب سے جا کر یہی بات کہہ دی۔وہ کہنے لگا یہ نورالدین کی شرارت معلوم ہوتی ہے۔اُس نے تجھے یہ بات سمجھا کر میرے پاس بھیجا ہے مگر تمہیں اس بارہ میں کسی گھبراہٹ کی ضرورت نہیں۔جب قیامت کا دن آئے گا اور پلِ صراط پر سب لوگ اکٹھے ہوں گے تو تمہارے گناہ میں خود اُٹھا لوں گا اور تم دگڑ دگر کرتے ہوئے جنت میں چلے جانا۔انہوں نے کہا پیر صاحب ! ہم تو جنت میں چلے گئے پھر آپ کا کیا بنے گا؟ وہ کہنے لگا جب فرشتے میرے پاس آئیں گے تو میں انہیں کی لال لال آنکھیں نکال کر کہوں گا کہ کیا ہمارے نانا امام حسین کی شہادت کافی نہیں تھی کہ آج قیامت کے دن ہمیں بھی ستایا جاتا ہے۔بس یہ سنتے ہی فرشتے دوڑ جائیں گے اور ہم دگڑ دگر کرتے ہوئے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔غرض عیسائی جس کو خدا قرار دیتے ہیں وہ تو کہتا ہے کہ خدایا! یہ تیرے بندے ہیں۔آپ چاہیں تو انہیں سزا دے دیں اور چاہیں تو معاف کر دیں۔مگر مسلمان کہتے ہیں کہ ہم فرشتوں کو لال لال آنکھیں دکھا ئیں گے جس سے وہ ڈر کر بھاگ جائیں گے اور ہم دگر دگڑ کرتے ہوئے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔غرض مسلمان اس معاملہ میں عیسائیوں سے بھی آگے نکل گئے اِلَّا مَا شَاءَ اللہ۔وہ بزرگ جنہوں نے خدا تعالیٰ کی توحید کی اشاعت کے لیے رات دن کوششیں کیں اور اسلام کا جھنڈا بلند رکھا میں ان کا ذکر نہیں کر رہا۔جیسے حضرت ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی ہیں یا حضرت احمد صاحب سرہندی ہیں یا حضرت سید احمد صاحب بریلوی ہیں۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے توحید کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں۔میں صرف ان بدبختوں کا ذکر کر رہا ہوں جنہوں نے دین کو نسی بنا دیا اور اسلام کی طرف ایسی باتیں منسوب کر دیں جو اُ سے بد نام کرنے والی ہیں۔ایک قصہ مشہور ہے کہ معراج کی رات اللہ تعالیٰ نے جبریل کو بھیجا کہ جاؤ اور محمد رسول اللہ کو