خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 149

$1957 149 خطبات محمود جلد نمبر 38 مقام دیتا ہے۔بعض لوگ جو اس حقیقت کو مد نظر نہیں رکھتے مبالغہ سے کام لیتے ہوئے رسول کو خدا کا مقام دے دیتے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی ہتک ہوتی ہے اور بعض دفعہ رسول کی شان میں ایسے الفاظ استعمال کرنے لگ جاتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جائز نہیں سمجھتے تھے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو لوگوں سے کہہ دے کہ هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرً ا رَسُولاً -3 میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں۔مگر مسلمانوں میں سے بعض ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ آپ بشر نہیں تھے بلکہ آپ کو بشر کہنا حرام ہے اور جو شخص آپ کو بشر کہتا ہے وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔گویا انہوں نے رسول کو خدا کا مقام دیا ہے۔حالانکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت فرمایا تھا کہ خدا یہود پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنالیا ہے اور انہیں خدائی کا درجہ دے دیا ہے۔4 یہ تو آپ کا فتویٰ ہے جو آپ نے یہود کے متعلق دیا مگر مسلمانوں نے یہ فتویٰ دے دیا کہ آپ کو بشر کہنا بھی ناجائز ہے۔حالانکہ اصل نیکی یہ تھی کہ خدا کو خدا کا، رسول کو رسول کا اور صحابی کو صحابی کا درجہ دیا جا تا۔جو شخص ایسا نہیں کرتا اور در جے گھٹا تا بڑھا تا رہتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے حضور مجرم ہو جاتا ہے۔اور ایسا آدمی کبھی عزت نہیں پاتا، نہ خدا تعالی کی نگاہ میں اور نہ رسول کی نظر میں۔کیونکہ وہ رسول کو خدا کے مقابلہ میں لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔مثلا مسیح ناصری کی امت نے حضرت مسیح ناصرتی کو خدا کا درجہ دے دیا ہے۔مگر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن جب حضرت مسیح سے اس بارہ میں پوچھا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ خدایا! میں نے تو کبھی ایسی بات نہیں کہی تھی۔انہوں نے جو کچھ کیا ہے میرے مرنے کے بعد کیا ہے۔اب آپ کا اختیار ہے کہ چاہیں تو انہیں معاف کر دیں اور چاہیں تو سزا دے دیں۔5 گویا جس کو کی انہوں نے خدا کا بیٹا بنا رکھا ہے۔بجائے اس کے کہ وہ اپنی امت کے اس فعل پر فخر کرتا وہ خدا سے یہی کہے گا کہ خدایا! اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔انہوں نے جو کچھ کہا ہے میرے مرنے کے بعد کہا ہے۔اب تیرا اختیار ہے کہ تو اُن سے جو چاہے سلوک کرے۔یہ تیرے بندے ہیں تو چاہے تو انہیں معاف کر دے اور چاہے تو سزا دے دے۔مگر مسلمانوں نے اس سے بھی بڑھ کر کمال کر دیا۔حضرت خلیفہ اول کی ایک بہن ایک پیر صاحب کی مُرید تھیں۔وہ قادیان میں آئیں اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر لی۔جب واپس گئیں تو ان کے