خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 123

123 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 میں اس نے انتظام کر دیا ہے کہ ایک پونڈ ماہوار چندہ با قاعدہ جماعت کو ملتا رہے۔ایک پونڈ ماہوار کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں مگر دس بیس ہزار احمدی ہو جائیں اور اس طرح دس بیس ہزار پونڈ ماہوار چندہ آ جائے تو اس سے ہر ماہ ایک مسجد بن سکتی ہے۔خدا کرے یہ نو مسلم یہاں آ جائے اور ہر ابتلا سے محفوظ رہے۔یورپ کے لوگوں خصوصاً جرمنی کے لوگوں کے آنے میں ابتلا کا خطرہ رہتا ہے۔جرمنی کے لوگ اگر چہ امارت میں بہت کم ہیں لیکن ان میں نزاکت زیادہ پائی جاتی ہے۔ویسے لڑائی میں وہ بہت مضبوط ہیں لیکن طبیعت کے لحاظ سے بڑے صفائی پسند ہیں اور جرمنی میں بہت زیادہ صفائی کا خیال پایا جاتا ہے۔لندن میں جاؤ تو ہر جگہ کا غذات پڑے ہوئے نظر آئیں گے۔جہاں کسی نے کوئی چیز کھائی وہیں کاغذ پھینک دیا۔لیکن سوئٹزر لینڈ میں ہم رہے ہیں وہاں صفائی کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے۔سارے شہر میں پھر جاؤ ایک کاغذ بھی کسی سڑک پر پڑا نہیں ملے گا۔ہمارا ملک تو گندا ہے ہی۔جرمنی کا ایک احمدی زندگی وقف کر کے لندن گیا اور وہاں سے مرتد ہو کر واپس آ گیا۔صرف اس وجہ سے کہ لندن بڑا گندہ کی شہر ہے۔تو جس کولندن گند اشہر نظر آیار بوہ اُسے کیسا نظر آئے گا۔جہاں ہر جگہ پر بکروں کی آنتیں پڑی ہوئی ہوتی ہیں۔چنانچہ پروفیسر ٹلٹاک صاحب نے جب ربوہ آنے کا ارادہ ظاہر کیا تو چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے مجھے منع کیا کہ اُسے ابھی نہ بلاؤ، میں اپنا مکان بنالوں اور اس میں فلش والا پاخانہ بنا لوں تب بلائیں۔ورنہ اس کو ابتلاء آ جائے گا۔چنانچہ پچھلے سال جب چودھری صاحب کا مکان بن گیا تو وہ یہاں آگئے۔ورنہ انہوں نے بہت عرصہ پہلے آ جانا تھا۔اب ڈر آتا ہے کہ یہ دونوں میاں بیوی آ رہے ہیں خدا تعالیٰ ان کے ایمانوں کو سلامت رکھے۔ہماری عدم صفائی کی وجہ سے ان کو کوئی ٹھوکر نہ لگے کیونکہ جرمن لوگ بڑے صفائی پسند ہیں۔جب تک انہیں صفائی نظر نہ آئے اور یہ نہ دیکھیں کہ سب لوگ مشینوں کی طرح کام میں لگے ہوئے ہیں انہیں ٹھوکر لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ہم ہیمبرگ میں رہتے تھے۔ہم دیکھتے کہ ہمارے سامنے گلی میں ایک مکان ٹوٹا ہوا ہے مگر دوسری صبح دیکھتے کہ لوگ دیوؤں کی طرح اُس مکان کے بنانے میں لگے ہوئے ہیں اور شام تک اُسے مکمل کر دیتے۔مجھے ایک وزیر نے بتایا کہ ہم سب سے زیادہ اہمیت تعمیر کے کام کو دیتے ہیں۔انگریزوں نے ہمارے شہر کو بموں سے اڑایا تھا۔اب ہم خود اسے تعمیر کر رہے ہیں۔محلہ والے سب لوگ آ جاتے ہیں اور مزدور بن کر مکان تعمیر کرا دیتے ہیں اور ایک پیسہ بھی اجرت کے طور پر نہیں لیتے۔اس طرح ہم ہر روز تین چار مکانات بنا لیتے