خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 3

$1957 3 خطبات محمود جلد نمبر 38 جوانی کے زمانہ میں بھی سردی کے نتیجہ میں مجھے نزلہ اور کھانسی کی تکلیف ہو جاتی تھی۔اس سال سردی شروع ہونے کے معا بعد تو مجھے نزلہ کی تکلیف نہیں ہوئی لیکن کل عصر کے بعد یکدم نزلہ کی تکلیف ہو گئی اور ناک سے پانی اس قدر بہنے لگا کہ دو الگانے کے دو تین سیکنڈ بعد پھر وہی حالت ہو جاتی تھی۔اس لیے بیماری کے لمبا ہو جانے کے خیال سے میں بات زیادہ لمبی نہیں کرتا۔احباب دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے صحت دے اور پھر کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ابھی قرآن کریم کا بہت سا کام پڑا ہے اور اسے ختم کرنا ہے۔خدا کرے سردی ختم ہو تو یہ کام دوبارہ شروع کیا جائے۔اور اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ قرآن کریم کو ہم دنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیلا سکیں۔ابھی دنیا کی سینکڑوں زبانیں ایسی ہیں جن میں ہم نے قرآن کریم کا ترجمہ کرنا ہے۔یہ ترجمہ میں نے تو نہیں کرنا کیونکہ میں وہ زبانیں نہیں جانتا۔ترجمہ دوسرے لوگوں نے کرنا ہے۔ہاں میں نے اس کام کی نگرانی کرنی ہے اور نگرانی کا کام میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کر سکتا ہوں۔ابھی تک دنیا کی صرف تیرہ زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ ہوا ہے اور دنیا کی تیرہ سوز بانیں ہیں۔گویا ابھی سو گنا کام پڑا ہے جو ہم نے کرنا ہے اور بارہ سو ستاسی زبانیں ایسی ہیں جن میں ہم نے قرآن کریم کا ترجمہ کرنا ہے۔کیونکہ قرآن کریم تمام انسانوں کے لیے نازل ہوا ہے اور دنیا کا کوئی فردا ایسا نہیں جسے قرآن کریم مخاطب نہیں کرتا۔اس لیے دنیا کا کوئی فردا ایسا نہیں ہونا چاہیے جس کی پہنچ تک ہم قرآن کریم نہ پہنچا سکیں اور اس کی زبان میں اس کا ترجمہ نہ کر دیں۔تاکہ کوئی فرد یہ نہ کہہ سکے کہ اے اللہ ! تو نے مجھے فلاں زبان بولنے والے لوگوں میں پیدا کیا تھا اور قرآن کریم عربی زبان میں ہے پھر میں قرآن کریم کس سے سیکھتا۔میں سمجھتا ہوں یہ بھی مسلمانوں کے لیے ایک امتحان تھا کہ قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہواتی تا کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ وہ اسے ہر جگہ پہنچاتے ہیں یا نہیں۔لیکن بد قسمتی سے مسلمانوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ قرآن کریم کا ترجمہ کرنا کفر ہے۔گویا دوسرے لفظوں میں اس کا یہ مطلب تھا کہ ہر جگہ پر قرآن کریم کا پہنچانا کفر ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ کام ہمارے لیے محفوظ رکھا تھا۔چنانچہ اس نے حضرت سیح موعود علیہ السلام کے طفیل ہمیں سمجھ دی کہ قرآن کریم کا ترجمہ کرنا کفر نہیں بلکہ ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کا بالاستیعاب ترجمہ تو نہیں کیا۔آپ کے زمانہ میں بعض احمدیوں نے ترجمہ کیا ہے۔ہاں! آپ نے اپنی کتابوں میں اس کی اتنی آیتوں کا ترجمہ کر دیا ہے