خطبات محمود (جلد 38) — Page 2
خطبات محمود جلد نمبر 38 2 $1957 آج یہ جمعہ نئے سال کا پہلا جمعہ ہے۔28 دسمبر کو جو جمعہ آیا تھا وہ پچھلے سال کا آخری جمعہ تھا اور یہ 1957 ء کا پہلا جمعہ ہے۔میں جماعت سے کہتا ہوں کہ وہ خصوصیت سے دعائیں مانگے کہ خدا کرے یہ سال ہمارے لیے برکتیں اور رحمتیں تو اس سے بھی زیادہ لائے جو گزشتہ سال ہمیں ملیں۔لیکن فتنوں کے سلسلہ کو ختم کر دے اور اسے یکسر مٹادے۔کیونکہ برکتیں تو بہر حال برکتیں ہیں اور ان کا ہمیں شکر یہ ادا کرنا چاہیے۔لیکن اگر ان میں ابتلا ہل جائیں تو وہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے شہر میں کوئی کڑوی چیز ملا دی جائے۔بے شک شہد میٹھی چیز ہے اور اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔لیکن اس کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس میں کڑوی چیز مل جائے تو اس کا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے۔پس دوست دعا کریں کہ نیا سال ہمارے لیے گزشتہ سال سے بہت زیادہ با برکت ہو اور اس سال گزشتہ سال سے بیسیوں نہیں سینکڑوں گنا زیادہ ترقی کے سامان جماعت کے لیے پیدا ہوں۔اور فتنہ قطعی طور پر مٹ جائے کیونکہ فتنہ چاہے کتنا ہی چھوٹا ہوا سے کم نہیں کہا جاسکتا۔برکتوں کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ سینکڑوں نہیں ہے ہزاروں گنا زیادہ ہو جائیں لیکن فتنہ کے لیے ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ سینکڑوں گنا کم ہے۔کیونکہ فتنہ بہر حال فتنہ ہی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی ہے کہ کبھی اپنے لیے امتحان نہ مانگو 1 کیونکہ امتحان چاہے کتنا کم ہو وہ خطرناک ہی ہوتا ہے۔پس دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ موجودہ فتنہ کو یکسر مٹا دے اور اس سال خفیف سے خفیف فتنہ بھی جماعت میں پیدا نہ ہو۔لیکن برکات گزشتہ سال سے سینکڑوں نہیں ہزاروں گنا زیادہ ہوں تا کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات سے بہرہ ور ہونے کا ہمیں اور بھی موقع ملے۔پھر یہ بھی دعا کریں کہ خدا تعالیٰ کے انعامات بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہم سرکش نہ ہوں بلکہ جتنا بھی ہم بڑھیں اور ترقی کریں اُتنا ہی ہم میں انکسار اور انابت الی اللہ زیادہ ہو۔اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کو دیکھ کر ہم متکبر نہ ہوں اور یہ نہ کہیں کہ یہ ہمارا کام ہے بلکہ جتنا جتنا خدا کا فضل ہم پر نازل ہو اتنا ہی ہمیں یقین ہو کہ ہم ناکارہ اور بے بس ہیں۔جو کچھ ہمیں ملا ہے یہ محض خدا تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں ملا ہے اور جتنازیادہ فضل ہم پر نازل ہو اتناہی زیادہ ہم خدا تعالیٰ کا شکر یہ ادا کرنے والے ہوں۔سردی کے یکدم بڑھ جانے کی وجہ سے مجھے شدید نزلہ کی تکلیف ہوگئی ہے، گلا بیٹھ گیا ہے اور ناک سے بھی پانی آتا ہے۔اس لیے میں خطبہ جمعہ کو مختر کرتا ہوں تا ایسانہ ہو کہ تکلیف زیادہ ہو جائے۔