خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 108

$1957 108 خطبات محمود جلد نمبر 38 نہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ اگر تم سچے مومن ہو اور تم سے نکلنے والا واقعی مرتد ہے۔تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں تمہیں ایک جماعت دے گا 1 اور میں نے بتایا تھا کہ چند لوگوں کے مرتد ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جماعت کو خاص طور پر ترقی دینی شروع کی ہے۔چنانچہ فلپائن سے بہت سی بیعتیں آئی ہیں۔اُس وقت میں نے بتایا تھا کہ 72 بیعتیں آچکی ہیں۔اس کے بعد اور بیعتیں آئیں اور پھر نئی جگہوں سے آئیں۔چنانچہ اب ان کی تعداد 78 ہو چکی ہے۔اسی طرح ڈچ گی آنا سے اطلاع آئی ہے کہ وہاں ایک نئے شہر میں احمدی جماعت قائم ہوگئی ہے اور ان لوگوں میں اسلام اور احمدیت کے متعلق تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق ہے۔پھر آج کیپ ٹاؤن (جنوبی افریقہ ) سے ایک یز عورت کی بیعت کا خط آیا ہے جو بہت لائق عورت ہے اور کئی کالجوں میں پڑھاتی رہی ہے۔وہ لکھتی ہے کہ میں دیر سے اسلام لائی ہوئی تھی لیکن اس کے اظہار کا مجھے موقع نہیں ملا تھا۔اب میں نے لوگوں کو بتادیا ہے کہ میں مسلمان ہوگئی ہوں اور میں نے اسلام کی تبلیغ بھی شروع کر دی ہے۔اسی طرح وی آنا سے ایک تعلیم یافتہ عورت کا خط آیا ہے کہ وہ اسلام کی تحقیق کر رہی ہے۔وہ عورت غالباً ڈاکٹر ہے۔اسی طرح اور مختلف ممالک سے خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت اور اسلام کی ترقی کی خبریں آ رہی ہیں۔پچھلے ہفتے کوئی آٹھ دس بیعتیں امریکہ سے بھی آئی ہیں اور لکھا تھا کہ ایک نئی جگہ سے بھی بعض بیعتیں آئی ہیں جہاں حال ہی میں جماعت قائم ہوئی ہے۔لیکن ہم ابھی تک امریکہ سے خوش نہیں کیونکہ گو وہاں نئی جماعتیں قائم ہورہی ہیں لیکن نے مبلغ نہیں جار ہے اور وہاں کا رئیس التبلیغ یہ شکوہ کرتا رہتا ہے کہ ہمیں کوئی چندہ نہیں آتا۔حالانکہ اُن سے پہلے اس چندے سے دُگنا چندہ آتا تھا جو آب آتا ہے۔یہ نئے رئیس التبلیغ 1944ء میں گئے ہیں اور جب سے یہ گئے ہیں کچھ ایسی نحوست پڑی ہے کہ وہاں کے مشن کے چندے کم ہو گئے ہیں اور احمدیوں کی تعداد بھی کم ہو گئی ہے۔جب مفتی محمد صادق صاحب امریکہ گئے تھے تو اُس وقت سات ہزار سے زیادہ احمدی ہوئے تھے۔پھر ان کے بعد ماسٹر محمد دین صاحب کے زمانہ کے بعض مخلص احمدی اب بھی شکا گو میں موجود ہیں۔اب کچھ دنوں سے پھر کچھ حبشی نو مسلموں کے خطوط آنے شروع ہوئے ہیں کہ ان کے علاقہ میں احمدیت کی ترقی ہورہی ہے۔لیکن میں نے یہ تجویز کیا ہے کہ امریکہ اتنا بڑا ملک ہے کہ کوئی انچارج مبلغ ایک جگہ بیٹھ کر نہیں کر سکتا۔اس لیے اس ملک کے سب مشنوں کو الگ الگ کر دیا جائے۔تمام مشنوں پر