خطبات محمود (جلد 38) — Page 97
$1957 97 خطبات محمود جلد نمبر 38 ہے ثمن نے مسلمانوں کی پشت پر سے حملہ کر کے ان کی فتح کو شکست میں تبدیل کر دیا ہے۔لیکن حضرت عمر ان لوگوں میں سے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بچارہے تھے اور آپ کی کے آگے کھڑے ہو کر لڑ رہے تھے۔صرف بارہ تھے جو اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے اور اُن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی شامل تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے گرے اور آپ کی شہادت کی خبر مشہور ہوئی اس صدمہ میں یہ خیال کر کے کہ شاید اس خبر کو سن کر مدینہ سے کچھ اور لوگ پہنچیں اور ان کے ساتھ مل کر ہم آپ کا بدلہ لیں حضرت عمرؓ میدانِ جنگ سے باہر آگئے اور ایک چٹان پر بیٹھ کر رونے لگ گئے۔حضرت انس بن نضر اُس وقت ٹہلتے ٹہلتے کھجور میں کھا رہے تھے انہوں نے جب حضرت عمرؓ کو روتے دیکھا تو آگے بڑھ کر کہا عمر ! اسلام کو فتح ہوئی۔اور تم رور ہے ہو؟ یہ رونے کا کونسا موقع ہے؟ یہ تو خوشی کا موقع ہے۔حضرت عمرؓ کہنے لگے انس! شاید تمہیں پتانہیں کہ بعد میں کیا ہوا؟ انس نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ دشمن نے پے سے اچانک حملہ کر دیا اور اس حملہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی شہید ہو گئے ہیں۔حضرت انس کے پاس اُس وقت صرف ایک ہی کھجور تھی جو منہ میں ڈالنے کے لیے تیار تھے مگر انہوں نے جب یہ بات سنی تو کہا عمر! اگر یہ واقعہ جو تم نے بیان کیا ہے درست ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تب بھی یہ رونے کا کونسا وقت ہے۔جدھر ہمارا محبوب گیا ہے اُدھر ہی ہمیں بھی جانا چاہیے۔اگر ہمارا محبوب اس دنیا میں نہیں تو ہم نے اس دنیا میں رہ کر کیا کرنا ہے؟ ہمارا محبوب اگلے جہان چلا گیا ہے تو ہم بھی وہیں جائیں گے اس دنیا میں ہمارا کوئی کام نہیں۔پھر انہوں نے اس کھجور کو جو اُن کے ہاتھ میں تھی نیچے پھینکا اور کہنے لگے میرے اور جنت کے درمیان سوائے تیرے اور کونسی روک ہے؟ اس کے بعد انہوں نے تلوار سونت لی اور میدانِ جنگ میں چلے گئے۔کفار کا لشکر پیچھے ہٹ چکا تھا مگر ابھی میدانِ جنگ میں کھڑا تھا تا کہ موقع دیکھ کر دوبارہ حملہ آور ہو سکے۔انس اس لشکر پر جا پڑے۔وہ تین ہزار کا لشکر تھا اور یہ اکیلے تھے۔انہوں نے غصہ میں انس پر اتنی ضر میں لگائیں کہ جب خدا تعالیٰ نے دوبارہ مسلمانوں کو فتح دی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو جمع کر کے کہا جاؤ اور انس کو تلاش کرو۔چنانچہ کچھ لوگ تلاش کے لیے گئے۔لیکن انس نہ ملے۔انہوں نے واپس آکر كها يَا رَسُولَ اللہ ! انس نہیں ملے، اُن کا کوئی پتا نہیں چلتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے