خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 96

$1957 96 خطبات محمود جلد نمبر 38 کام کے دن ہیں کچھ دن ٹھہر جاؤ۔پھر چھٹی مل جائے گی۔اس پر وہ کہنے لگا حضور! مجھے کئی سال چھٹی مانگتے ہو گئے لیکن مجھے چھٹی نہیں ملی۔جب بھی چھٹی مانگتا ہوں۔یہی جواب دیا جاتا ہے کہ آجکل کام کے دن ہیں چند دن ٹھہر جاؤ۔لیکن میں اب زیادہ انتظار نہیں کرسکتا۔مجسٹریٹ نے کہا کیوں؟ میں بھی تو یہاں کام کر رہا ہوں۔اگر تم چند دن کام کر لوتو کیا حرج ہے؟ اس پر وہ کہنے لگا بات یہ ہے کہ میری بیوی بیوہ ہو گئی ہے اور میرے بچے یتیم ہو گئے ہیں۔آپ مجھے چھٹی کیوں نہیں دیتے ؟ ایسی نوکری کو میں نے کیا کرنا ہے کہ بیوی بیوہ ہو جائے اور بچے یتیم ہو جائیں اور پھر بھی چھٹی نہ ملے ؟ مجسٹریٹ کہنے لگا تیری عقل ماری گئی ہے۔بیوی تو تب بیوہ ہوتی ہے جب اُس کا خاوند مر جائے مگر تو تو یہاں زندہ موجود ہے اور پھر بچے اس وقت یتیم ہوتے ہیں جب ان کا باپ مر جائے اور تو یہاں زندہ موجود ہے اور خود اپنے منہ سے کہہ رہا ہے کہ میرے بچے یتیم ہو گئے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تو زندہ موجود ہو اور پھر تیرے بچے بھی یتیم ہو جائیں اور تیری بیوی بھی بیوہ ہو جائے۔چپڑاسی کہنے لگا میں اتنا بیوقوف تو نہیں ہوں یہ بات میری سمجھ میں بھی آتی ہے لیکن گھر سے ایک معتبر نائی آیا ہے اور اس نے بتایا ہے کہ میری بیوی بیوہ ہو گئی ہے اور میرے بچے یتیم ہوگئے ہیں۔اسی طرح ربوہ سے بھی اس اخبار کا معتبر نامہ نگار لکھتا ہے کہ خلیفہ صاحب بھاگ کر جابہ پہنچ گئے ہیں اور بوہ والے تشویش اور گھبراہٹ کی وجہ سے دوڑے پھر رہے ہیں۔انہیں چھپنے کے لیے کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔گویا ان کے پاس بھی معتبر نائی آگیا ہے۔وہ معتبر نائی تو محض روایتی تھا مگر یہ سچ مچ کا معتبر نائی ہے جس کی رپورٹ اخبار میں چھپی ہے کہ ربوہ میں بڑی سخت تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ربوہ والے بھاگے پھر رہے ہیں اور خلیفہ صاحب جاہ میں پہنچ گئے ہیں۔یہ بالکل اُسی معتبر نائی والا قصہ ہے۔حالانکہ مومن کا طریق تو وہ ہوتا ہے جو صحابہ نے جنگِ اُحد کے موقع پر دکھایا کہ بجائے گھبراہٹ کے ان کا ایمان اور بھی بڑھ گیا اور عورتیں اور بچے دوڑتے ہوئے میدانِ جنگ میں پہنچ گئے۔ایک اور صحابی حضرت انس بن نضر کی نسبت آتا ہے کہ جب مسلمانوں کو پہلے پہل جنگِ اُحد میں فتح نصیب ہوئی تو چونکہ انہوں نے رات سے کھانا نہیں کھایا تھا وہ ذرا پیچھے کی طرف ہٹ گئے۔ان کے پاس دس بارہ کھجور میں تھیں انہوں نے خیال کیا کہ وہ ایک طرف ہو کر کھجوریں کھا لیں۔چنانچہ وہ ٹہلتے بھی جاتے تھے اور کھجور میں بھی کھاتے جاتے تھے۔وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ بعد میں