خطبات محمود (جلد 37) — Page 52
$1956 52 59 خطبات محمود جلد نمبر 37 آپ کو غیب سے اس قدر دیتا تھا کہ آپ کے دل میں بھی اپنے امیر ہونے کا احساس پیدا ہو گیا تھا حالانکہ آپ خدا تعالیٰ کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ کر قادیان آگئے تھے۔پس تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو اور یہ فکر نہ کرو کہ تمہاری تنخواہیں تھوڑی ہیں۔اللہ تعالیٰ توکل - کرو گے تو تمہاری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وہ خود غیب سے سامان کر دے گا۔مومن مانگا نہیں کرتا مگر اُس کی ضروریات اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی طرح پوری کر دیتا ہے۔میرا شروع سے ہی یہ طریق رہا ہے کہ میں کسی سے مانگتا نہیں۔جماعت کے امیر اور تاجر بعض دفعہ میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری دلی خواہش ہے کہ آپ کو آپ کی پسند کی کوئی چیز بطور نذرانہ دیں اس لیے آپ اپنی پسند کی کوئی چیز بتائیں تا کہ ہم اپنی خواہش کے مطابق وہ چیز آپ کی خدمت میں پیش کر سکیں۔میں انہیں یہی کہتا ہوں کہ یہ بات غلط ہے کہ میں آپ کو کوئی چیز لانے کے لیے کہوں۔یہ تو ایک قسم کا مانگنا ہو جائے گا اور مومن کسی سے مانگتا نہیں۔اگر میں آپ کو اپنی پسند کی کوئی چیز لانے کے لیے کہوں گا تو آپ کو مجھ سے اس کی قیمت لینی پڑے گی۔لیکن باوجود اس کے کہ میں نے لوگوں سے کبھی نہیں مانگا خدا تعالیٰ مجھے غیب دیتا ہے۔تقسیم ملک کے بعد ہم قادیان سے نکلے تو میری سب جائیداد وہیں رہ گئی اور بظاہر گزارہ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی لیکن یہ خدا تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل ہے کہ اُس نے 1915ء میں مجھے خواب میں اشارہ کیا کہ میں سندھ میں زمین خریدوں۔سندھ میں جب زمین نکلی تو میرے پاس رقم نہیں تھی لیکن خدا تعالیٰ نے جماعت کے دو پنشنر دوست میرے پاس بھیج دیئے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں ریلوے ڈیپارٹمنٹ یا پوسٹ آفس سے اس قدر رقم ملی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ یہ رقم کچھ عرصہ کے لیے استعمال کر لیں۔چنانچہ میں نے وہ رقم لے لی۔اس وقت زمین بہت سستی تھی۔میں نے اُس روپیہ سے سندھ میں زمین خرید لی۔اب بیماری میں بعض دفعہ گھبراہٹ ہوتی ہے کہ اُس زمین کو کون سنبھالے گا کیونکہ مجھے بچوں میں اتنی قابلیت نظر نہیں آتی کہ وہ اُس کو پوری طرح سنبھال سکیں لیکن اللہ تعالیٰ کے سامان دیکھو کہ اُس نے ایک طرف تو زمین خریدنے کی طرف رؤیا کے ذریعہ توجہ دلائی اور