خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 51

خطبات محمود جلد نمبر 37 51 $1956 ہاتھ ڈالا اور کہا مجھ سے غلطی ہو گئی ہے، وہ نذرانہ آپ کا نہیں بلکہ یہ ہے۔اور دوسرے نذرانہ میں تین سو تیرہ روپیہ کی ہی رقم تھی۔در اصل بات یہ ہوئی کہ اُس نے دو مختلف اشخاص کو روپے بھجوائے تھے۔پیغامبر نے غلطی سے دوسرے کا روپیہ انہیں دے دیا۔انہوں نے گنا تو واپس کر دیا اور کہا کہ یہ میرا روپیہ نہیں ہوسکتا۔مجھے اس سے زیادہ کی ضرورت ہے۔چنانچہ اُس نے گھبرا کر پھر جیب میں ہاتھ ڈالا تو اُن کا نذرانہ نکل آیا جو عین ان کی ضرورت کے مطابق تھا۔تو جو لوگ خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں انہیں تنخواہوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ انہیں غیب سے روزی بھیجتا ہے اور اُن کی خود مدد کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمُ مِنَ السَّمَاءِ 1 کہ تیری مدد وہ لوگ کریں گے جنہیں ہم آسمان سے وحی کریں گے۔پس جو شخص خدا تعالیٰ کے دین کا کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کی ضرورت کو خود پورا کرتا ہے۔پس اگر تم ایماندار بن جاؤ تو اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا کہ تمہیں زیادہ تنخواہ ملے۔تم ایماندار بن جاؤ گے تو خدا تعالیٰ تمہیں اپنے پاس سے رزق بھجوائے گا اور تمہاری ضروریات کا خود کفیل جائے گا۔ہو میں نے بتایا ہے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الاول قادیان میں ہجرت کر کے آگئے تو باوجود اس کے کہ آپ کو کوئی تنخواہ نہیں ملتی تھی خدا تعالیٰ خود آپ کو غیب سے رزق بھیج دیتا تھا اور اتنا بھیجتا تھا کہ آپ کو یہ خیال پیدا ہو گیا کہ میں بڑا امیر ہوں۔ایک دن بھائی شیر محمد صاحب جو مولوی عبدالرحمان صاحب جٹ (امیر جماعت احمدیہ قادیان) کے ہم زُلف ہیں امرتسر گئے اور وہاں سے بچوں کے لیے کھلونے لے آئے۔حضرت خلیفة المسیح الاول کا لڑکا عبدالحی مرحوم بازار گیا تو اُس نے بھائی شیر محمد صاحب سے ایک کھلونا لے لیا۔ایک دن بھائی شیر محمد صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ میاں عبدالحی مجھ سے ایک کھلونا لائے تھے اُس کی قیمت چاہیے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے میری طرف دیکھا اور فرمایا میاں! یہ لوگ مجھے کوٹنے کے لیے اس قسم کی اشیاء لے آتے ہیں ورنہ یہاں میرے سوا اور کون ایسا شخص ہے جس کے بچے اس قسم کی چیزیں خرید سکتے ہیں۔گویا اللہ تعالیٰ