خطبات محمود (جلد 37) — Page 550
$1956 550 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ انہوں نے کوئی روپیہ یہودیوں کو چندہ کے طور پر دیا ہو یا انہوں نے ان کے ساتھ مل کر کبھی قتال میں حصہ لیا ہو؟ تاریخ میں صرف ایک ہی مثال ملتی ہے کہ ایک دفعہ وہ یہودیوں کے ساتھ مل کر لڑائی میں آئے لیکن پھر وہ انہیں چھوڑ کر بھاگ گئے اور یہ غزوہ احزاب میں ہوا۔جس وقت جنگ تیز ہوئی منافق سب الگ ہو گئے بلکہ ان میں سے بعض یہودیوں کے اندر ریشہ دوانیاں کرنے لگ گئے۔پس اگر ان لوگوں کا یہ کہنا سچ ہے کہ ہماری اسٹیج تمہاری تائید میں ہے، ہمارا روپیہ تمہاری تائید میں ہے اور ہماری تنظیم تمہاری تائید میں ہے تو وہ پہلے یہ بتائیں کہ اپنی عزت رکھنے کے لیے انہوں نے ان منافقوں کے سپر د کچھ کیا بھی ہے یا نہیں؟ اگر اور کچھ نہیں تو وہ اپنا دوکنگ مشن ہی ان کے سپرد کر دیتے۔پھر ہم مان لیتے کہ انہوں نے سچ کہا ہے۔یا جتنا چنده پیغامی انجمن اشاعتِ اسلام کو دیتے ہیں اتنا چندہ وہ ان لوگوں کو بھی دے دیتے۔مثلاً فرض کرو انجمن اشاعتِ اسلام کا چندہ پچاس ہزار یا لاکھ روپیہ سالانہ ہے تو پچاس ہزار یا لاکھ روپیہ سالانہ انہیں بھی مل جاتا تا یہ کچھ کام کر کے دکھاتے یا کام کر کے نہ دکھاتے تو وہ اسے کھا ہی لیتے۔اور ہم تو یہی امید رکھتے ہیں کہ اگر پیغامی انہیں روپیہ دیتے تو وہ کھا جاتے۔لیکن کم از کم ان کی سچائی تو ثابت ہو جاتی کہ ہمارا اسٹیج ، ہماری تنظیم اور ہمارا روپیہ تمہاری تائید میں ہے۔اسٹیج تو اس طرح ان کی تائید میں ہو سکتا ہے کہ وہ اپنا وو کنگ مشن ان منافقوں کے حوالہ کر کے دکھا دیں۔ہم مان جائیں گے کہ یہ لوگ سچ بولتے ہیں۔پھر جب ہم کہیں گے کہ ہم تبلیغ کرتے ہیں تو جماعت سے نکلنے والے بھی کہہ سکیں گے کہ ہم بھی تبلیغ کرتے ہیں لیکن اب ان تو کٹنی کی طرح ان پر یہی مثال صادق آتی ہے کہ سو گز واروں گز بھر نہ پھاڑوں یعنی منہ سے تو میں کہتی ہوں کہ اس پر سو گز قربان لیکن جب پھاڑنے کا وقت آئے تو میں ایک گز بھی پھاڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔اسی طرح یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری تنظیم ان الگ ہونے والوں کی تائید میں ہے۔اگر واقع میں ان کی تنظیم ان لوگوں کی تائید میں ہے تو وہ کیوں مولوی صدرالدین صاحب کو ہٹا کر اُن میں سے کسی کو اپنا امیر نہیں بنا لیتے۔اور اگر اُن کا اسٹیج ان کی تائید میں ہے تو کیوں وہ ووکنگ مشن کو انجمن اشاعت اسلام سے لے کر ان لوگوں کے