خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 545

خطبات محمود جلد نمبر 37 545 $1956 درخواست ہے۔دوسرا جنازه راجہ غلام حیدر صاحب بجکہ ضلع سرگودھا کا ہے۔ہجکہ کی جماعت بڑی پرانی جماعت ہے اور راجہ غلام حیدر صاحب بڑے مخلص احمدی تھے۔میں انہیں ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں۔بڑے تبلیغ کرنے والے تھے۔ان کا لڑکا بھی بڑا جوشیلا ہے، مولوی فاضل ہے اور لمصل آج کل ملتان میں کام کرتا ہے۔پہلے ہمارے اخبار الصلح کراچی کا نائب اڈیٹر ہوتا تھا۔یہ دونوں جنازے میں پڑھاؤں گا۔دوست دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں ترقی مدارج بخشے۔(الفضل یکم دسمبر 1956ء) 1 : المائدة : 55 وو 2 : نیو یارک کی ایک فرم نے ایک کتاب شائع کی جس کا اردو ترجمہ ” مذہبی راہنماؤں کی سوانح عمریاں“ کے نام سے ہندوستان کے ایک صوبہ کے گورنر مسٹر منشی بمبئی نے کیا۔اس کتاب کے ترجمہ سے لوگوں کے سامنے یہ بات آئی کہ اس کتاب میں حضور علے کی ہتک کی گئی۔اس پر بھارت میں زبر دست شورش ہوئی۔سینکڑوں مسلمانوں کو شہید اور ہزاروں کو جیل خانوں میں ڈال دیا گیا اور مقدمے بنائے گئے۔اس شورش کو دیکھ کر پہلے پاکستانی گورنمنٹ اور بعد ازاں ہندوستانی گورنمنٹ نے یہ کتاب ضبط کرلی۔اس پر حضرت مصلح موعود نے 5 اکتوبر 1956 ء کو ایک پر جلال خطبہ دیا اور فرمایا کہ کتاب ضبط کرنے والا طریقہ ٹھیک نہیں بلکہ اس کا جواب امریکہ میں اور اس کا ترجمہ ہندوستان میں شائع کیا جاتا۔تاریخ احمدیت جلد 19 صفحه 213)