خطبات محمود (جلد 37) — Page 494
$1956 494 خطبات محمود جلد نمبر 37 سے پھر عیسائی تعداد کے لحاظ سے بھی ہم سے دُگنے ہیں، روپیہ کے لحاظ سے وہ مسلمانوں ہزاروں گنا زیادہ ہیں، سیاست کے لحاظ سے بھی وہ مسلمانوں سے زیادہ طاقتور ہیں۔پس جب تک نوجوان اپنی زندگیاں وقف کر کے باہر نہ نکلیں اور وہ دین کی خدمت کے لیے تیار نہ ہوں اُس وقت تک یہ کام نہیں ہو سکتا۔جب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث نہیں ہوئے تھے ہمارے پاس کوئی ایسا رستہ نہیں تھا جس پر چل کر ہم صحابہ کی سی قربانیاں کرسکیں۔مگر اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل ہمیں وہ رستہ مل چکا ہے اور آپ نے تبلیغ اسلام کا ایک سلسلہ قائم کر دیا ہے۔اب اس ذریعہ سے ہر احمدی کو موقع مل گیا ہے کہ وہ صحابہ کی طرح کہہ سکے کہ اگر میں فلاں موقع پر ہوتا تو اِس اِس طرح اپنی جان اور مال کی قربانی پیش کرتا۔آخر مال کی قربانی یہ تو نہیں کہ کوئی شخص اپنی دولت لے کر گٹھڑی میں باندھے اور کنویں میں ڈال دے یا جان کی قربانی کا یہ مطلب تو نہیں کہ گلے میں رسہ ڈال کر خود کشی کر لے۔بلکہ مال کی قربانی یہ ہے کہ وہ اپنا مال اشاعت اسلام کرنے والوں کو دے۔اس طرح اُس کا مال خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہو گا اور سلسلہ کو بھی اس کا فائدہ ہوگا۔اور جان کی قربانی یہ ہے کہ وہ غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کے لیے نکل جائے اور اپنی ساری زندگی اسی کام میں صرف کر دے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی برکتوں کا وارث ہو جاتا ہے۔پس تمہیں خدا تعالیٰ نے جان اور مال قربان کرنے کا موقع بہم پہنچا دیا ہے۔بعض پچھلے علماء نے غلط فہمی سے یہ کہا ہے کہ جان کی قربانی صرف یہ ہے کہ تلوار سے جہاد کیا جائے حالانکہ چاہے کوئی اپنی جان کو چھری سے ذبح کرے، چاہے اُسے وطن چھوڑنے کی صورت میں قربان کرے اور چاہے وہ دشمن کی گالیاں سنے اور اُس کی اذیتیں برداشت کرے۔یہ سب چیزیں جان کی قربانیان میں شامل ہیں۔بہر حال اس وقت جو تمہیں جان اور مال قربان کرنے کا موقع ملا ہے اس کی نظیر پچھلے زمانہ میں نہیں ملتی۔صحابہ کے زمانہ میں اس کی بیشک نظیر ملتی ہے لیکن اس کے بعد کے زمانہ میں لوگوں کو بہت کم موقع جان اور مال کو قربان کرنے کا ملا ہے۔اب پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے صحابہ کی طرح جان اور مال کو قربان کرنے کا موقع پیدا کیا ہے تا کہ ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر کے تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ والے حکم کو