خطبات محمود (جلد 37) — Page 471
$1956 471 خطبات محمود جلد نمبر 37 وہ دے دیا اور فلسطین اور عراق انگریزوں کے سپرد کر دیا۔شریف مکہ جس نے اپنی قوم کو مروایا تھا تو اُسے کچھ بھی نہ دیا۔جب اس نے کہلا بھیجا کہ آپ نے تو مجھ سے معاہدہ کیا تھا کہ اگر تم ہماری مدد کرو تو تمام عرب متحد کر کے تمہیں دے دیا جائے گا تو کہنے لگے میکموہن تو ہمارا مصری نمائندہ تھا اور ہمارے قانون میں ایسے معاہدات پر وزیر خارجہ دستخط کیا کرتا ہے۔اس لیے و معاہدہ ہے ہی نہیں۔اب دیکھو! حضرت عمرؓ نے تو غلام کے کیے ہوئے معاہدہ کو بھی مان لیا لیکن انہوں نے اپنے مصری نمائندہ کے دستخطوں کو بھی رڈ کر دیا اور کہا اسے معاہدہ کرنے کا کیا حق تھا۔تم نے بیوقوفی کی جو اُسے مان لیا لیکن ہم تمہاری بیوقوفی کے ذمہ دار نہیں۔ہمارے وزیر خارجہ کے دستخط ہوتے تو کوئی بات بھی تھی۔گویا انہوں نے شریف مکہ سے دھوکا کیا اور أُخْرِجَتْ للناس کی بجائے أُخْرِجَتْ لِأَنفُسِهِمْ ہو گئے۔انہوں نے اپنے ملک کے فائدہ کو مدنظر رکھا بنی نوع انسان کے فائدہ کو مدنظر نہ رکھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ خود شریف مکہ اور اُس کے بیٹوں میں کی جھگڑا ہو گیا کیونکہ امیر فیصل نے جو بعد میں عراق کا بادشاہ بن گیا تھا اور جس نے بڑی قربانی کی تھی اور لڑائی میں بڑی تندہی سے کام کیا تھا اُس کو باپ پر غصہ آیا کہ مرتا تو میں پھرا ہوں اور ملک لے گئے انگریز۔بعد میں انگریزوں نے بھی کچھ شرم کی۔معلوم ہوتا ہے کہ یورپین میں سے انگریزوں میں کچھ شرم ہے۔انہوں نے عراق کی بادشاہت اسے دے دی اور اس طرح اپنے فعل کی کچھ پردہ پوشی کی مگر عرب اکٹھا نہ ہوا اور اب تک اکٹھا نہیں۔اب کچھ حصہ تو سعودی عرب کے ماتحت جمع ہو گیا ہے اور وہ بھی انہوں نے اپنی تلواروں سے اکٹھا کیا ہے۔شام ان لوگوں نے فرانسیسیوں کو دے دیا تھا اور اردن میں انہوں نے شریف مکہ کا ایک بیٹا بادشاہ بنا دیا تھا۔شام والے اب خود اُردن کے ساتھ ملنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انگریزوں کی کا اس میں کوئی دخل نہیں۔مصر نے اپنے زور سے آزادی لی اور وہ بھی اب کوشش کر رہا ہے کہ عربوں کے ساتھ اتحاد کرے۔لیکن اہلِ کتاب نے اپنے کیے ہوئے وعدہ کو پورا نہ کیا۔حالانکہ قرآن کریم نے انہیں پہلے سے بتا دیا تھا کہ وَلَوْ أَمَنَ اَهْلُ الكِتب خَيْرًا لَّهُمْ اگر اہلِ کتاب أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کے حکم پرا لِلنَّاس کے حکم پر ایمان لائے اور