خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 470

خطبات محمود جلد نمبر 37 470 $1956 أَمَنَ أَهْلُ الْكِتُبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ اگر اہلِ کتاب بھی ہمارے اِس حکم پر ایمان لے آئیں اور وہ بھی اپنے آپ کو بنی نوع انسان کی خدمت کے لیے وقف کر دیں تو اس کا نتیجہ ان کے لیے بھی بہت ہی اچھا نکلے گا۔ورنہ ان کی حکومتیں بدنام ہو جائیں گی۔چنانچہ دیکھ لو ساری دنیا میں امریکہ اور انگلستان کا بغض ہے کیونکہ یہ وَلَوْ أَمَنَ أَهْلُ الْكِتُبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ پر عمل نہیں کر رہے۔امریکہ اور انگلستان والے بھی اہلِ کتاب میں سے ہیں اور عیسائی ہیں۔اگر وہ اس حکم کو مان لیتے تو ان کے متعلق لوگوں کے دلوں میں بغض اور کینہ نہ ہوتا۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر آیت کے غلط معنے کر لیے جاتے ہیں۔چنانچہ اس آیت کے بھی غلط معنے کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اگر وہ مسلمان ہو جائیں اور ایمان لے آئیں تو ان کے لیے بہتر ہو گا۔حالانکہ یہاں پہلے مسلمانوں کا ذکر کر کے بتایا گیا ہے کہ انہیں ہم نے تمام دنیا کی بھلائی کے لیے کھڑا کیا ہے اور پھر یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر کر کے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر وہ ایمان لے آئیں یعنی اگر وہ بھی اِس حکم کو مان لیں تو اُن کی حکومت کی عزت بڑھے گی۔اور اگر انہوں نے بنی نوع انسان کی محبت کو اپنا مقصد قرار نہ دیا تو لوگوں کے دلوں میں اُن کے متعلق نفرت پیدا ہو جائے گی اور اُن کی حکومت کا انجام نہیں ہو گا۔چنانچہ دیکھ لو اب عیسائیوں کو حکومت حاصل ہے لیکن چونکہ انہوں نے اس آیت پر عمل نہیں کیا اس لیے وہ جن ممالک میں بھی جاتے ہیں وہاں لوٹ کھسوٹ شروع کر دیتے ہیں۔اگر امریکہ جاپان میں گیا تو اُس نے اُسے ٹوٹنا شروع کر دیا، اگر انگلستان ہندوستان میں آیا تو اس نے ہندوستان کو ٹوٹنا شروع کر دیا۔اگر یہ عرب میں گئے تو اُن کو لُوٹنا شروع کر دیا۔جس وقت پچھلی جنگ ہوئی ہے تو مصر میں جنرل میکموہن برطانیہ کا نمائندہ تھا۔ریف مکه بیچاره سادہ لوح آدمی تھا۔اُس کو جنرل میکموہن نے لکھا کہ تم ترکوں کے خلاف ہماری مدد کرو۔شریف مکہ نے کہا اگر ہم مدد کریں تو تم ہمیں کیا دو گے؟ اُس نے کہا سب عرب کو متحد کر کے تمہارے حوالے کر دیں گے۔وہ بے چارہ مان گیا اور اس نے معاہدہ کر لیا۔لیکن جب جنگ ختم ہو گئی تو انگریزوں نے عرب کو بانٹنا شروع کر دیا۔لبنان اور دمشق فرانس کو