خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 466

$1956 466 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رشتہ دار تھا اور وہ مسلمان بھی ہو چکا تھا۔اب وہ زمانہ نہیں تھا کہ کہا جاتا بلال تو مسلمان ہے اور ابوسفیان ایمان نہیں لایا۔بلکہ اب وہ زمانہ تھا کہ بلال بھی مسلمان ہو چکا تھا اور ابوسفیان بھی مسلمان ہو چکا تھا۔گویا دو مسلمانوں کا مقابلہ تھا۔مگر ایک سردا ر تھا مسلمان اور ایک غلام تھا مسلمان۔آپ نے اُس غلام مسلمان کو سردار مسلمان کے برابر رکھا اور فرمایا جو شخص اس کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو جائے گا اُس کو بھی پناہ کی دی جائے گی۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ابوسفیان کے گھر میں گھستے ہوئے تو لوگوں کو ڈر بھی آ سکتا تھا مگر بلال کے جھنڈے تلے کھڑا ہونے میں کسی کو کوئی خوف نہیں تھا۔کیونکہ وہ میدان میں گاڑا گیا تھا اور میدان میں جو جھنڈا گاڑا جاتا ہے اُس کے نیچے ہر شخص آ سکتا ہے۔تو ابوسفیان کے گھر نے اُن لوگوں کو پناہ دی جو اُس سے تعلق رکھتے تھے اور بلال کے جھنڈے نے ہر مکہ والے کو پناہ دی۔اب دیکھو کتنی مساوات اسلام نے رکھی ہے۔یہاں کوئی سوال عرب کا نہیں تھا اور کوئی سوال حبشہ کا نہیں تھا۔اسی طرح نہ ایران کا کوئی سوال تھا ، نہ آرمینیا کا کوئی سوال تھا۔ہر شخص چاہے کسی قوم کا تھا چاہے وہ غلام تھا یا آزاد، اسلام میں آنے کے بعد اُسے عزت دی گئی۔تو فرماتا ہے کہ تم ایک ایسی قوم ہو أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ جس کو تمام دنیا کے فائدہ کے لیے کھڑا کیا گیا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح اسی امت سے سارے جہان نے فائدہ اُٹھایا۔حضرت عمر کے زمانہ میں آرمینیا کے قلعہ پر مسلمانوں نے حملہ کیا۔وہ حملہ اتنا سخت تھا کہ کفار ڈر گئے کہ کہیں مسلمان دروازہ توڑ کر اندر داخل نہ ہو جائیں۔آخر انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ کسی طرح ان سے صلح کر لی جائے۔مگر چونکہ علاقہ بڑا زرخیز تھا اس لیے انہوں نے کہا اگر صلح کی کی تو ان کا جرنیل ہم پر بڑا تاوان لگائے گا جس کی وجہ سے ہم پر بوجھ پڑ جائے گا۔غلاموں میں چونکہ عقل کم ہوتی ہے اس لیے ان کا کوئی غلام پکڑ لو اور اُس سے معاہدہ کر لو۔کسی نے کہا غلام سے معاہدہ کرنے سے کیا بنتا ہے؟ تو انہوں نے کہا ان کی قوم میں سب برابر ہیں۔بیشک تم کسی غلام سے معاہدہ کر لو اس سے کام بن جائے گا۔چنانچہ ایک مسلمان غلام پانی لینے قلعہ نیچے آیا تو انہوں نے اُس کو بلایا اور کہا میاں! اگر ہم قلعہ کا دروازہ کھول دیں تو تم ہمیں