خطبات محمود (جلد 37) — Page 465
$1956 465 خطبات محمود جلد نمبر 37۔مسلمان غلاموں سے کم قربانیاں نہیں کیں لیکن رُتبہ اور عزت میں وہ ہمیشہ ہی اصلی قوموں سے رکھے گئے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد جو غلام ایمان لائے اُن کو وہ ایسا مرتبہ نصیب ہوا اور ایسی ترقی نصیب ہوئی کہ بنو ہاشم یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے جو لوگ تھے اُن سے ان غلاموں کے مقابلہ میں کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا گیا۔آپ کے رشتہ دار اور رؤسائے عرب سمجھتے تھے کہ ہمارے برابر کوئی نہیں مگر جب وقت آب تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور ان ایمان لانے والے غلاموں میں کوئی فرق نہیں رکھا۔دشمنی کے زمانہ میں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ دشمن تھے اور یہ دوست تھے مگر جب دوست بن گئے تب تو ان میں اور غلاموں میں کوئی فرق ہونا چاہیے تھا۔مگر جب فتح مکہ کا وقت آیا تو حضرت عباس ابوسفیان کو پکڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور ی آپ کی خدمت میں پیش کیا۔اُس کو جب پتا لگا کہ آپ مکہ پر حملہ کرنے جا رہے ہیں تو اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ کی قوم نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔آپ کو خدا نے بڑا رُتبہ دیا ہے۔آپ مجھے اپنی قوم کے لیے کوئی انعام دیں تا کہ ان کے سامنے میری بھی عزت ہو۔آپ نے فرمایا جو شخص تمہارے گھر میں گھس جائے گا اُس کو جان کی امان دے دی جائے گی۔وہ کہنے لگا يَا رَسُولَ اللہ ! میرا گھر کتنا بڑا ہے۔مکہ کے ہزاروں افراد کی آبادی میرے گھر میں کیسے گھسے گی؟ آپ نے فرمایا اچھا جو خانہ کعبہ میں گھس جائے گا اُس کی بھی حفاظت کی جائے گی۔اس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! سارا مکہ وہاں بھی نہیں سما سکتا۔فرمایا اچھا! جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے گا اور اندر بیٹھ جائے گا اُس کو بھی معاف کر دیا جائے گا۔آپ اسی طرح بتاتے گئے اور اپنے احسان کی وسعت کرتے گئے۔بلال اُس وقت نہیں تھے۔مکہ والوں نے انہیں بڑی بڑی تکلیفیں دی تھیں۔آپ نے مدینہ کے ایک انصاری کو جو اُن کے بھائی بنائے گئے تھے بلایا اور اُسے ایک جھنڈا دے کر فرمایا یہ بلال کا جھنڈا ہے۔جو شخص اس جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو جائے گا اُس کو بھی پناہ دی جائے گی۔3 اب بلال ایک غلام تھے۔ایسے غلام جنہیں مکہ والے تپتی ریت پر لٹا کر کیلوں والے جوتے پہن کر اُن پر گودا کرتے تھے اور مقابل میں ابوسفیان تھا جو سارے مکہ کا سردار تھا