خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 456

$1956 456 خطبات محمود جلد نمبر 37 وہ قوم یا جماعت سچی مومن نہیں کہلائے گی کہ ایک مرتد کو دیکھنے کے بعد بھی اُس کے اندر دینی غیرت پیدا نہ ہوئی۔مگر چونکہ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ علیحدہ ہونے والے سُخطَةً لِدِينِهِ نہیں نکلے اس لیے ان میں تبلیغ کا جوش بھی پیدا نہیں ہوتا۔چنانچہ دیکھ لو مولوی تو کہتے ہیں احمدی مرتد ہیں مگر عوام الناس کو احمدیوں میں تبلیغ کرنے کا جوش پیدا نہیں تھا۔اس لیے کہ وہ جانتے کہ یہ ہم سے زیادہ اچھے مسلمان ہو گئے ہیں۔اگر عوام الناس کو واقع میں یہ یقین ہوتا کہ یہ لوگ مسلمان نہیں رہے تو وہ سارے کے سارے تبلیغ میں لگ جاتے اور احمدیوں سے زیادہ عیسائیوں اور ہندوؤں میں سے کھینچ کر لے آتے۔لیکن اُن کا جوش میں نہ آنا صاف بتاتا ہے کہ وہ ہم کو مرتد نہیں سمجھتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو اسلام پر زیادہ پکے ہو گئے ہیں۔جیسے پچھلی دفعہ 1953ء میں جب مار مار کر بعض احمدیوں سے کہلایا گیا کہ احمدیت جھوٹی ہے تو ایک بوڑھے احمدی سے بھی ڈرا دھمکا کر یہ کہلوا دیا گیا کہ میں تو بہ کرتا ہوں۔وہ لوگ ا اپنے مولوی کے پاس گئے اور کہنے لگے مبارک ہو ایک احمدی کو ہم نے پھر مسلمان کر لیا ہے۔وہ کہنے لگا تم بڑے بیوقوف ہو تم نے کچھ نہیں کیا۔وہ اُسی طرح احمدی ہے جیسے پہلے تھا۔کہنے لگے نہیں۔ہم نے اُس سے کہا تو بہ کر تو اُس نے فوراً توبہ کر لی۔کہنے لگا کیا احمدی تو بہ نہیں کرتے؟ وہ تو روزانہ تو بہ کرتے ہیں۔اس لیے اگر اُس نے توبہ کی تو اپنے مذہب کے مطابق کی۔اگر تم سچے ہو تو اُس کو جا کر کہو کہ میرے پیچھے آ کر نماز پڑھے۔تب سمجھا جائے گا کہ اُس نے احمدیت سے توبہ کی ہے۔وہ لوگ پھر اس کے پاس گئے۔تھا تو وہ کمزور اور بوڑھا مگر اللہ تعالیٰ نے ایمانی عقل اسے دی ہوئی تھی۔جب دوبارہ لوگ اُس کے پاس گئے تو اُس نے کہا تو بہ تو میں نے کر لی تھی۔پھر اب کیوں آئے ہو؟ کہنے لگے ہمارے مولوی نے کہا ہے کہ تم میرے پیچھے آ کر نماز پڑھو تب ہم مانیں گے کہ تم نے تو بہ کی ہے۔کہنے لگا یہ غلط بات ہے۔دیکھو نماز پڑھنے کے متعلق تو مرزا صاحب بھی کہا کرتے تھے۔وہ بھی یہی کہتے تھے کہ نماز پڑھو، روزہ رکھو، حج کرو، زکوۃ دو، شراب نہ پیو، چوری نہ کرو، جھوٹ نہ بولو۔میں نے سمجھا تھا اب تمہارے کہنے سے میں نے توبہ کر لی ہے تو اب سب ممنوع کام جائز ہو گئے ہیں۔اب آئندہ شراب بھی پئیں گے، کنجریوں کا ناچ بھی کرائیں گے، جھوٹ بھی بولیں گے،