خطبات محمود (جلد 37) — Page 444
خطبات محمود جلد نمبر 37 444 $1956 کہا جاتا ہے کہ ہندو مسلمانوں کے احتجاج کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ یہ کتاب تو 29 سال ہوئے امریکہ میں چھپی تھی۔گویا اس کتاب کا لکھنے والا کوئی عیسائی ہے ہندو نہیں۔اگر یہ درست ہے تو اس صورت میں زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس کتاب کا جواب امریکہ میں شائع کیا جائے اور اس کا ترجمہ ہندوستان میں پھیلایا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تم کوئی ایسی بات دیکھو جو ناپسندیدہ ہو تو اگر تمہارے ہاتھ میں طاقت ہو تو تم اُسے ہاتھ سے مٹا دو۔اور اگر تمہارے ہاتھ میں طاقت نہ ہو لیکن تم زبان سے اُس کی بُرائی کا اظہار کر سکتے ہو تو زبان سے اُس کی بُرائی ظاہر کرو۔اور اگر تم میں زبان سے اظہار کرنے کی بھی طاقت نہ ہو تو تم دل میں ہی اسے بُرا سمجھو۔6 یہ نکتہ بہت لطیف ہے۔اس کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان گورنمنٹ چونکہ پروٹسٹ کر سکتی ہے اس لیے اس کا فرض ہے کہ وہ ہندوستان کی جی حکومت سے پروٹسٹ کرے کہ اُس نے ہمارے آقا کی ہتک کروائی ہے اور ہندوستانی مسلمان جو مظلوم ہیں اور وہ اس کے متعلق کوئی آزادانہ کا روائی نہیں کر سکتے ان کے متعلق یہ حکم ہے کہ وہ دل میں ہی اس پر بُرا منائیں۔اور چونکہ پاکستانی گورنمنٹ نے اس کتاب کو ضبط کر لیا ہے اس لیے پاکستان سے باہر کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس کتاب کا جواب لکھیں اور اسے امریکہ اور ہندوستان میں شائع کروائیں۔اگر یہ جواب امریکہ میں شائع کیا جائے تو وہاں کے رہنے والے لوگوں کے سامنے بھی کتاب کے مصنف کا جھوٹ ظاہر ہو جائے گا۔پھر اس کا ترجمہ ہندوستان میں شائع کیا جائے تو ہندو بھی ڈر جائیں گے اور وہ آئندہ مسلمانوں پر حملہ نہیں کریں گے اور سمجھ لیں گے کہ اگر انہوں نے مسلمانوں کی طرف کنکر پھینکا تو اس کے جواب میں پتھر پڑے گا۔اس سے نہ صرف ہندوستانی مسلمان خوش ہو جائیں گے بلکہ قرآنی أيت "وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ “ کی صداقت بھی واضح ہو جائے گی۔اخبارات سے پتا لگتا ہے کہ جب سعودی عرب کے بادشاہ سے پنڈت نہرو ملنے گئے اور اس کتاب کے متعلق باتیں ہوئیں تو انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ ایسا اقدام کریں گے کہ اس قسم کی کوئی دلآزار کتاب شائع نہ ہو۔لیکن مجھے یقین نہیں کہ پنڈت نہرو اپنے وعدہ پر عمل کریں۔وہ صرف سعودی عرب کے بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے یہ باتیں کہہ آئے ہیں