خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 443

$1956 443 خطبات محمود جلد نمبر 37 کرے گا۔غرض ہندوؤں کے اپنے مندروں، دیوتاؤں اور مذہب میں اس قدر گند ہے کہ اُسے ظاہر کرنے سے اُن کا منہ بند ہو سکتا ہے۔پس مسلمانوں کا کام تھا کہ وہ ان باتوں کو بیان کرتے اور کہتے کہ تم مسلمانوں پر تو اعتراض کرتے ہو لیکن تمہیں اپنے گھر کی خبر نہیں۔ہندوستان میں زیادہ تر پوجاشو جی کی ہوتی ہے۔اگر شو جی کی حقیقت ہی بیان کرو تو ہندو شرمندہ ہو جائیں گے۔میں جب لندن گیا تو وہاں میں نے ایک انگریز عورت کو لڑکیوں کو پڑھانے کے لیے بطور استانی رکھ لیا۔وہ عورت مذہبی جوش رکھتی تھی۔وہ میری کتابیں بھی خرید کر لے گئی۔ایک دن اُس نے شکوہ کیا کہ آپ نے عیسائیت کے متعلق ایسی باتیں بیان کی ہیں جو ٹھیک نہیں۔میں نے کہا تم کوئی ایک بات بیان کرو۔اِس پر اُس نے کہا آپ نے فلاں حوالہ جو لکھا ہے اس کا مطلب پادری اور بیان کرتے ہیں۔میں نے کہا کیا یہ حوالہ بائبل میں موجود نہیں۔اُس نے کہا بائبل میں تو موجود ہے لیکن اس کا وہ مطلب نہیں جو آپ نے لیا ہے۔آپ کو اُس کا وہ مفہوم لینا چاہیے جو اُس کے ماننے والے لیتے ہیں۔میں نے کہا تمہارا مطلب تو یہ ہوا کہ اس حوالہ کا مطلب جو عیسائی لوگ لیتے ہیں وہی مجھے بیان کرنا چاہیے۔لیکن تمہاری اپنی کتابوں میں اسلام کے متعلق جو باتیں لکھی ہیں وہ ہم نہیں مانتے۔پھر وہ کیونکر جائز ہیں؟ میں نے تو یہ حوالہ عیسائیوں کو عقل دلانے کے لیے لکھا ہے تا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اعتراض کرتے ہوئے وہ سمجھ سے کام لیں۔اگر وہ قانون جسے تم نے بیان کیا ہے ٹھیک ہے تو عیسائیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اندر اسے جاری کریں اور اسلام کے کسی حوالہ کے ایسے معنے نہ کریں جو مسلمانوں کے نزدیک درست نہ ہوں۔لیکن اگر وہ کسی آیت کے اپنے معنے کر کے اسلام پر اعتراض کرنے کے مجاز ہیں تو ہم بھی تو رات اور انجیل کی آیات کے وہ معنے کریں گے جو ہمارے نزدیک اُن سے نکلتے ہیں۔اس پر اُس نے کہا تب تو وہ بات ٹھیک ہے جو آپ نے لکھی۔غرض مناسب طریق یہی تھا کہ مسلمان ”ذہبی رہنما کا جواب دیتے اور ہندوؤں کے مذہب کا پول کھولتے۔اُن کی کتابوں میں اس قدر گند بھرا ہوا ہے کہ ذراسا پردہ اُٹھانے سے بھی وہ شرم کے مارے سر اونچا نہیں کر سکتے۔ہے۔