خطبات محمود (جلد 37) — Page 440
$1956 440 خطبات محمود جلد نمبر 37 66 حالت بڑی خراب تھی۔اُس وقت مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی اور آپ کے بعد بعض اور لوگ کھڑے ہو گئے جنہوں نے عیسائیوں اور آریوں کے اعتراضات کے جواب دیئے اور دین کی حفاظت کی۔سرسید احمد خاں صاحب نے بھی اپنے زمانہ میں عیسائیوں کے اعتراضات کے جواب دیئے۔پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کھڑا کر دیا جنہوں نے اتنے لمبے عرصہ تک دشمن کا مقابلہ کیا کہ آپ کی وفات پر دشمنوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ آپ نے اسلام کا دفاع ایسے شاندار رنگ میں کیا ہے کہ آپ سے پہلے اور کسی مسلمان عالم نے اس طرح اسلام کا دفاع نہیں کیا۔یہ وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ “ کا ہی کرشمہ تھا۔اللہ تعالیٰ کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وعدہ تھا کہ اُس نے آپ کو بہر حال بچانا ہے۔جب دشمن نے تلوار سے حملہ کیا تو اُس نے اُس کی تلوار کو گند کر دیا اور جب اُس نے تاریخ سے حملہ کیا تو خدا تعالیٰ نے ایسے مسلمان کھڑے کر دیئے جنہوں نے تاریخی کتب کی چھان بین کر کے دشمن کے اعتراضات کو رڈ کر دیا اور خود مخالفین کے بزرگوں کی تاریخیں کھول کر بتایا کہ وہ جو اعتراضات اسلام پر کر رہے ہیں وہ ان کے اپنے مذہب پر بھی پڑتے ہیں اور جو حصہ قرآن کریم اور احادیث سے تعلق رکھتا تھا اُسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صاف کر دیا۔اُن دنوں بھی اسلام کے خلاف بمبئی سے ایک کتاب ”مذہبی رہنما" 5 شائع ہوئی تھی جس کی وجہ سے مسلمانوں میں بڑا جوش پیدا ہوا۔یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علی وآلہ وسلم کی عزت و ناموس کی حفاظت کرتے ہوئے سینکڑوں مسلمان ہندوستان میں شہید ہو گئے۔ان لوگوں نے جو طریق عمل اختیار کیا وہ اس زمانہ کے لحاظ سے صحیح ہے یا غلط میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔بہر حال مسلمانوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو عشق ) محبت ہے اُس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم انہیں مجبور اور معذور سمجھتے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوؤں کے پاس کروڑوں روپیہ ہے۔اگر گورنمنٹ کسی کتاب کی پانچ سو کا پیاں ضبط کرے تو وہ اُسی وقت اُس کی دس ہزار کا پیاں کسی دوسرے علاقہ میں شائع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے فتنے کا استیصال نہیں ہوتا۔انگریزوں کے زمانہ میں بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ جب کوئی کتاب