خطبات محمود (جلد 37) — Page 435
$1956 435 خطبات محمود جلد نمبر 37 جن پر قرآن کریم نازل ہوا ہے خاتم النبیین اور سید ولدِ آدم ہیں لیکن عام باتوں میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالی بعض دفعہ ایسا تصرف کرتا ہے کہ اعتراض کرنے والے کو فوراً پکڑ لیتا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عیسائی آیا اور اُس نے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی زبان اُم الا لسنة ہے حالانکہ میکس مولر وغیرہ نے لکھا ہے کہ جو زبان اُم الالسنة ہوتی ہے وہ مختصر ہوتی ہے۔پھر آہستہ آہستہ لوگ اُس کو پھیلا دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہم تو میکس مولر کے اس فارمولا کو نہیں مانتے کہ اُم الالسنة مختصر ہوتی ہے۔مگر چلو بحث کو کوتاہ کرنے کے لیے ہم اس فارمولا کو مان لیتے ہیں اور عربی زبان کو دیکھتے ہیں کہ آیا وہ اس معیار پر پوری اترتی ہے یا نہیں؟ اُس شخص نے یہ بھی کہا تھا کہ انگریزی زبان عربی زبان کے مقابلہ میں نہایت اعلیٰ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام انگریزی نہیں جانتے تھے لیکن آپ نے فرمایا اچھا! آپ بتائیں کہ انگریزی میں ” میرے پانی کو کیا کہتے ہیں؟ اُس نے کہا ”مائی واٹر“۔آپ نے فرمایا عربی زبان میں تو صرف ”مائی" کہنے سے ہی یہ مفہوم ادا ہو جاتا ہے۔اب آپ بتائیں کہ مائی واٹر زیادہ مختصر ہے یا ”مائی؟ اب اگر چہ آپ انگریزی نہیں جانتے تھے لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کی زبان پر ایسے الفاظ جاری فرما دیئے کہ معترض آپ ہی پھنس گیا اور وہ سخت شرمندہ اور لاجواب ہو گیا اور کہنے لگا کہ پھر تو عربی زبان ہی مختصر ہوئی۔یہی حال قرآن کریم کا ہے۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ آپ کو دشمنوں کے حملہ سے بچائے گا۔یعنی ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا جو قرآن کریم کو پڑھنے والے ہوں گے، اس سے سچا عشق رکھتے ہوں گے اور اس کی تفسیر کرنے والے ہوں گے۔وہ دشمنوں کو ان کے حملوں کا ایسا جواب دیں گے کہ ان کا منہ بند ہو جائے گا۔دوسرے اس نے قرآن کریم کے اندر ایسا مادہ رکھ دیا ہے کہ معترض جو بھی اعتراض کرے اُس کا جواب اس کے اندر موجود ہوتا ہے۔گویا آپ کی حفاظت کے دوطریق ہیں۔ایک انٹرنل (Internal) یعنی اندرونی ذریعہ ہے اور خود قرآن کریم میں یہ خصوصیت رکھ دی گئی۔