خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 394

$1956 394 خطبات محمود جلد نمبر 37 برابر ہیں میں آپ کے مقابلہ میں کھڑا نہیں ہوں گا۔چودھری شہاب الدین صاحب اندر آ کر بیٹھ گئے تو میں نے کہا آپ گھبراتے کیوں ہیں؟ میں نے چودھری شاہ نواز صاحب کو کہہ دیا ہے کہ وہ آپ سے ملیں اور کہیں کہ میں آپ کے مقابلہ میں کھڑا نہیں ہوں گا۔اس پر وہ کہنے لگے اچھا! انہوں نے وعدہ کر لیا ہے؟ آپ انہیں فوراً میرے پاس بھجوا دیں۔اُس وقت سب پہلی باتیں بھول گئے کہ میں بغیر کسی غرض کے ملنے آیا ہوں۔چنانچہ چودھری شاہ نواز صاحب ان کے مکان پر گئے اور انہیں تسلی ہو گئی۔غرض اس طرز پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ ہی جو شخص مجھ پر حملہ کرتا ہے خدا تعالیٰ اُس کو یا اُس کے رشتہ دار کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ میرے پاس آئیں اور کہیں کہ آپ ہماری مدد کریں اور ان اخباروں کے قول کے مطابق حکومت در حکومت قائم کریں۔کیا کوئی غیر احمدی ایسا ہے جو یہ کہے کہ کوئی شخص میرے باپ کو گالیاں دے تو میں اُسے بڑے شوق سے ملوں گا؟ اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی مرید جو مجھے باپ سے کئی گنا زیادہ عزیز سمجھتا ہے میرے کسی دشمن کو منہ لگائے۔وہ تو اُس کی شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا۔پھر اس کا نام حکومت در حکومت کیسے ہو گیا ؟ اگر کوئی شخص کسی کے باپ کو گالیاں دے تو وہ اس کے نزدیک کسی عزت کا مستحق نہیں ہو سکتا۔مثلاً دیکھ لو اگر کوئی لڑکا اپنی والدہ کے ساتھ جا رہا ہو اور رستہ میں اُسے کوئی غنڈہ ملے اور وہ اُس کی ماں کے سر پر جوتیاں مارے اور لڑکا اُس سے خفا ہو جائے تو کیا کوئی کہے گا کہ یہ حکومت در حکومت ہے؟ کیونکہ اُس دن سے وہ لڑکا اُس شخص سے نہیں بولتا۔حالانکہ اگر وہ لڑکا اس شخص سے بولتا تو ہم اُسے دیوث سمجھتے۔اُس کا اپنی والدہ کی بے عزتی کرنے والے سے نہ بولنا بتاتا ہے کہ اس کے اندر غیرت کا مادہ پایا جاتا ہے۔اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ حکومت در حکومت قائم ہو گئی ہے۔ނ پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے لائکپور سے سرگودھا جانے والی شاہی سڑک بھی ربوہ میں شامل ہے اور اُس سڑک پر گزرنے سے کوئی شخص کسی کو نہیں روک سکتا نہ ناظر امور عامہ اس کو روک سکتا ہے اور نہ کوئی اور شخص روک سکتا ہے۔پھر ربوہ میں ایسے مکانات بھی شامل ہیں جو صدرانجمن احمدیہ کی ملکیت ہیں، احمدیوں کے مکانات ہیں، میرے مکانات ہیں یا میری