خطبات محمود (جلد 37) — Page 393
$1956 393 خطبات محمود جلد نمبر 37 وہاں زیادہ جاتے تھے اور ان کا خاندان بڑا بارسوخ تھا۔اس لیے چودھری شہاب الدین صاحب کو ڈر پیدا ہوا کہ اگر چودھری شاہ نواز صاحب کھڑے رہے تو میں ہار جاؤں گا۔ج سر فضل حسین صاحب نے مجھ سے چودھری شہاب الدین صاحب کے متعلق ذکر کیا تو میں نے کہا آپ گھبراتے کیوں ہیں؟ میں آپ کی بات کبھی رد نہیں کر سکتا۔آپ کے مجھ سے پرانے تعلقات ہیں اور آپ کے والد کے میرے والد سے دوستانہ تعلقات تھے۔آپ جو کچھ کہتے ہیں میں ضرور پورا کر دوں گا۔سر فضل حسین صاحب نے حیرت سے کہا کہ کیا آپ نے مان لیا ہے؟ میں نے کہا ہاں میں نے مان لیا۔اس پر اُسی وقت سر فضل حسین صاحب نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کو بلایا اور کہنے لگے ابھی چودھری شہاب الدین صاحب کو فون کرو کہ مرزا صاحب سے فورا مل لیں۔میں نے کہا میں شام کو مل لوں گا۔انہوں نے کہا کہ آپ ابھی اُن سے مل لیجیے۔پتا نہیں شام تک وہ کتنے لوگوں سے بات کرے گا۔چنانچہ میں نے کہا میں ابھی اپنے گھر جاتا ہوں۔آپ انہیں فون کروا دیں۔چنانچہ اُن کے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے چودھری شہاب الدین صاحب کو فون کر دیا کہ وہ مجھے شیخ بشیر احمد صاحب کے مکان پر جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا فوراً مل لیں۔انہوں نے کہا کیا مرزا صاحب مان گئے ہیں۔انہوں نے کہا ہاں وہ مان گئے ہیں؟ آپ اُن سے فوراً مل لیں۔بہر حال وہ ملاقات کے لیے آ گئے۔وہ ایک ہوشیار آدمی تھے۔دروازہ پر آ کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے میں اندر نہیں آتا۔کیونکہ پ کہیں گے کہ میں کسی غرض کے لیے آیا ہوں۔جب تک آپ کو یہ یقین نہ ہو جائے کہ میں بے غرض آیا ہوں اُس وقت تک میں اندر نہیں آؤں گا۔میں انہیں خوب جانتا تھا۔میں نے کہا چودھری صاحب! باتیں نہ بنائیے اور اندر آ جائیے۔انہوں نے کہا میں ووٹ لینے نہیں آیا بلکہ یہ بتانے آیا ہوں کہ میرا سالا میرے گھر کیوں آیا ہے۔جب اس کے متعلق آپ کی تسلی ہو جائے گی تو دیکھا جائے گا۔میں نے کہا زیادہ باتیں نہ کریں اندر آ کر بیٹھ جائیں۔میں نے اس موقع پر چودھری شاہ نواز صاحب کو بھی بلا یا ہوا تھا اور میں نے انہیں کہا تھا کہ چودھری شہاب الدین صاحب بوڑھے آدمی ہیں اور آپ نوجوان ہیں۔آپ کو قربانی سے کام چاہیے۔میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان کے گھر جائیں اور کہیں آپ میرے باپ کے