خطبات محمود (جلد 37) — Page 384
$1956 384 خطبات محمود جلد نمبر 37 فیصلے کرتا ہے۔اُن دنوں احرار کا جوش زوروں پر تھا۔انہوں نے شرارت شروع کی اور گورنمنٹ کے کان بھرنے شروع کر دیئے کہ قادیان میں حکومت در حکومت قائم ہے۔اس پر میں نے حکم دے دیا کہ دارالقضاء صرف احمدیوں کے باہمی مقدمات کا فیصلہ کیا کرے۔احمدی اور غیر احمدی کا کوئی مقدمہ نہ سنا جائے۔چونکہ احمدیوں نے اقرار کیا ہوا ہے کہ وہ ایک نظام کے پابند رہیں گے اس لیے ان کے اقرار کی وجہ سے ہمارا حق ہے کہ ہم اُن کے جھگڑوں کو آپس میں نپٹانے کی کوشش کریں۔لیکن تھوڑے ہی دنوں میں خدا تعالیٰ نے جھوٹ بولنے والوں کو نگا کر دیا۔قادیان میں آریوں نے اپنے سکول کے لیے ایک شخص سے زمین لی مگر بعد میں اُس سے اُن کی لڑائی ہو گئی۔آریوں نے بہت کوشش کی کہ انہیں زمین مل جائے مگر وہ نہ ملی۔چونکہ اُس شخص پر جس سے انہوں نے زمین لی تھی ہمارا اثر تھا اس لیے آریوں نے مجھے لکھا کہ آپ حکم دیں کہ دارالقضاء ہمارا مقدمہ سنے۔میں نے انہیں کہا کہ گورنمنٹ نے اسے حکومت در حکومت قرار دیا ہے جس کی وجہ سے میں نے دارالقضاء والوں کو حکم دے دیا ہے کہ وہ صرف احمدیوں کے باہمی مقدمات سنے۔ایسے مقدمات نہ سنے جن میں کوئی فریق غیر احمدی ہو۔اور تم تو ہندو ہو تمہارا مقدمہ ہم کیسے سن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا یہ بات حکومت نے کہی ہے ہم نے تو نہیں کہی۔ہم آپ کو پوری اجازت دیتے ہیں کہ آپ ہمارا مقدمہ سنیں۔میں نے کہا تم تو پوری اجازت دیتے ہو لیکن تمہارے دوسرے ساتھی شور مچائیں گے کہ یہ تو حکومت در حکومت ہے اس لیے میں دارالقضاء کو تمہارا مقدمہ سننے کی اجازت نہیں دے سکتا۔آریہ پھر بھی مجھے کہتے رہے۔آخر میں نے سمجھا کہ یہ لوگ شور مچائیں گے کہ ہمارا حق ہمیں مل سکتا تھا لیکن یہ لوگ ہماری مدد نہیں کرتے۔مجھے اُس وقت خدا تعالیٰ نے ایک ترکیب سمجھا دی۔میں نے نظارت امور عامہ کو ہدایت کی کہ وہ ڈپٹی کمشنر کو لکھے کہ یہ لوگ ہمیں چٹھیاں لکھ لکھ کر تنگ کر رہے ہیں کہ ہم ان کا مقدمہ سنیں اور آپ اس کا نام حکومت در حکومت رکھتے ہیں۔کیا آپ کی طرف سے اجازت ہے کہ ہم ان کا مقدمہ سن لیں؟ اس پر اُس نے لکھا کہ ہم خود فیصلہ کریں گے آپ ان کا مقدمہ نہ سنیں۔اس کے بعد جب آریہ میرے پاس آئے تو میں نے وہ چٹھی اُن کے سامنے رکھ دی کہ ڈپٹی کمشنر نے لکھا ہے کہ ہم خود فیصلہ کریں گے۔