خطبات محمود (جلد 37) — Page 383
خطبات محمود جلد نمبر 37 383 $1956 ذاتی ملکیت ہیں۔اب اگر وہ احمدی یا نظارت امور عامہ کسی شخص کو احمدیوں کا دشمن سمجھ کر وہاں کی آنے سے روک دے تو کوئی شخص اس کو حکومت در حکومت کس طرح کہہ سکتا ہے؟ کیا ان کی اخبار والوں کے گھروں میں کوئی دشمن گھسنے کی کوشش کرے تو وہ اُسے نہیں روکیں گے؟ اگر وہ 3 اسے روکیں گے تو کیا یہ حکومت در حکومت ہو گی؟ پھر اگر احمدی اپنے گھروں میں اپنے دشمنوں کو آنے سے روکیں تو یہ حکومت در حکومت کیسے ہو گئی؟ اگر اپنے گھروں میں دشمن کو آنے سے روکنا حکومت در حکومت ہے تو میں ان اخبار والوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اخبارات میں یہ اعلان شائع کر دیں کہ ہمارے گھروں میں رات دن جس وقت کوئی چاہے آ جائے ہم اُسے نہیں روکیں گے خواہ وہ ہمارا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔کیونکہ ہم حکومت در حکومت کے قائل نہیں۔اگر وہ ایسا اعلان کر دیں تو ہم سمجھیں گے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سچ کہتے ہیں۔اور اگر وہ ایسا اعلان نہ کر سکیں تو نظارت امور عامہ پر اُن کا اعتراض کرنا محض تعصب کا نتیجہ ہے۔بہر حال اگر امور عامہ نے کسی کو ربوہ آنے سے منع کیا ہے تو اس ربوہ سے شہر کا وہ حصہ مراد ہے جو نظارت امور عامہ کے ماتحت ہے سرکاری سڑکیں اور قطعات امور عامہ کے ماتحت نہیں بلکہ امور عامہ کے ماتحت شہر کا وہ علاقہ ہے جس کی مالک صدرانجمن احمد یہ ہے اور اس علاقہ کے متعلق نظارت امور عامہ کو پورا اختیار ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو جو اُس کی نظر میں مشتبہ ہو وہاں آنے سے روک دے۔اب رہا وہ علاقہ جو نہ گورنمنٹ کے ماتحت ہے اور نہ صدرانجمن احمدیہ کے ماتحت بلکہ وہ احمدیوں کی ملکیت ہے تو اُس کے متعلق بھی ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر احمدی دیکھیں کہ کوئی شخص ان کے خلیفہ کو گالیاں دیتا ہے تو لازماً وہ اُسے اپنے گھروں میں نہیں ٹھہرائیں گے بلکہ اُسے روکنے کی کوشش کریں گے۔اور اگر وہ خلیفہ وقت کی کے کسی دشمن کو اپنے گھروں میں نہیں آنے دیں گے تو یہ حکومت در حکومت کیسے ہو گئی؟ یہ تو ایک ذاتی حق ہے جو ہر شہری کو حاصل ہے اور پاکستان کی حکومت نے دیا ہے۔اس کا استعمال ناجائز کیونکر ہو گیا؟ میں نے دیکھا ہے قادیان میں بھی ہمارے متعلق یہی کہا جاتا تھا کہ وہاں حکومت در حکومت قائم ہے۔اس کا ثبوت یہ دیا جاتا تھا کہ جماعت کا محکمہ قضاء باہمی جھگڑوں کے