خطبات محمود (جلد 37) — Page 24
$1956 24 خطبات محمود جلد نمبر 37 رکھتے ہیں کہ وہاں کے مبلغ ہمیں یہ اطلاع دیں گے کہ امریکہ کی جماعت کا چندہ چالیس ہزار ڈالر سالانہ نہیں، چالیس لاکھ ڈالر سالانہ نہیں، چالیس کروڑ ڈالر سالانہ نہیں، چالیس ارب ڈالر سالانہ نہیں بلکہ چالیس کھرب ڈالر سالانہ ہے۔یعنی پاکستان کی موجودہ سالانہ آمد سے بھی دس ہزار گنا زیادہ ہے۔اُس وقت ہم سمجھیں گے کہ امریکہ آج اسلام کے قریب ہوا ہے۔جب امریکہ اپنا کلیجہ نکال کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دے گا تب ہم سمجھیں گے کہ امریکہ آج اسلام لایا ہے۔تھوڑے بہت روپے کو ہم کچھ نہیں سمجھتے۔یہ روپیہ کیا ہے؟ امریکہ کے لحاظ سے تو یہ اُس کے ہاتھ کی میل ہے بلکہ اُس کے ہاتھ کی میل بھی نہیں۔جس دن امریکہ اربوں ارب روپیہ بطور چندہ اسلام کی اشاعت کے لیے دے گا، جس دن امریکہ میں لاکھوں مسجدیں بن جائیں گی، جس دن امریکہ میں لاکھوں میناروں پر اذان دی جائے گی، جس دن امریکہ میں لاکھوں امام، مساجد میں پانچ وقت نماز پڑھایا کریں گے اُس دن ہم سمجھیں گے کہ آج امریکہ اپنی جگہ سے ہلا ہے۔پس دوستوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر اُن پر کوئی شخص اس قسم کا سوال کرے تو وہ اُسے ہنس کر یہ جواب دیا کریں کہ میاں! تم کون ہو پوچھنے والے؟ یہ تو ایسی بات ہے جس کا گورنمنٹ کو بھی علم ہے۔سارے منی آرڈر اُس کی معرفت آتے ہیں اور بینکوں پر اُس کا تسلط ہے۔معلوم ہوتا ہے تمہیں کوئی دھوکا لگ گیا ہے یا تم سے کسی افسر نے مذاق کیا ہے کہ احمدیوں کو امریکہ سے امداد آتی ہے ورنہ اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ یہ بات تمہارے ذریعہ دریافت کرتا۔وہ تو بڑی آسانی سے ڈاکخانوں سے اس بات کے متعلق معلومات حاصل کر سکتا تھا، وہ بینکوں سے اس کا علم لے سکتا تھا۔بھلا گورنمنٹ سے یہ باتیں چُھپ سکتی ہیں؟ ڈاک کا محکمہ گورنمنٹ کے ماتحت ہے۔اس لیے ڈاکخانوں کی معرفت جو روپیہ ملتا ہے گورنمنٹ کے افسران کو اُس کا علم ہوتا ہے۔ہاں! بعض اوقات گورنمنٹیں مصلحتاً کہہ دیا کرتی ہیں کہ ہمیں فلاں بات کے متعلق پتانہیں حالانکہ اُنہیں اُس کا علم ہوتا ہے۔پس ایسی باتیں بعض لوگ برسبیل تذکرہ کر دیا کرتے ہیں۔اس لیے یہ خیال کر لینا کہ ایسی باتیں کرنے والا ضرور گورنمنٹ کا جاسوس ہے فضول بات ہے۔اگر کوئی شخص