خطبات محمود (جلد 37) — Page 348
$1956 348 خطبات محمود جلد نمبر 37 نے فوراً اپنے گھر کا دروازہ کھول دیا اور باہر نکل کر اس نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے، سینہ کوبی شروع کر دی اور بلند آواز سے چیخیں مار کر کہنے لگا ارے لوگو! یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ اسے اپنی پر رونے کا حق ہے اور مجھے جس کے دو نوجوان بیٹے جنگ میں مارے گئے ہیں اسے رونے کا حق نہیں ہے۔اس آواز کا بلند ہونا تھا کہ مکہ کے تمام لوگ جو قانون کے ڈر سے اب تک خاموش بیٹھے تھے کیا مرد اور کیا عورتیں اور کیا بچے سب کے سب اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور کسی نے اپنے باپ کو، کسی نے اپنے بیٹے کو ، کسی نے اپنے بھائی کو اور کسی نے اپنے چچا اور دوسرے رشتہ دار کو پیٹنا شروع کر دیا اور انہیں یہ خیال تک نہ رہا کہ اُن سو اونٹ جرمانہ ہو جائے گا۔جب سارے رونے لگ گئے تو مکہ کے رؤساء نے کہا کہ ا۔کس کس پر جرمانہ کریں۔چلو! سب کا جرمانہ معاف کیا جاتا ہے۔3 غرض اپنی مصیبت پر رونا ایک طبعی چیز ہے۔جیسے اس بڑھے نے کہا کہ اس شخص کو اپنی اونٹنی پر رونے کی اجازت ہے اور مجھے اپنے دو نوجوان بیٹوں پر رونے کی اجازت نہیں اور یہ کہتے ہوئے وہ بے تحاشا پیٹنے لگ گیا۔مگر یہ بیوقوف کہتا ہے کہ فرشتے بیشک میرے گناہوں پر روئیں اور استغفار کریں میں اپنے گناہوں پر کیوں استغفار کروں؟ اگر وہ یہ کہتا کہ جب فرشتے بھی میرے لیے استغفار کرتے ہیں تو میں کیوں نہ استغفار کروں تو یہ اس کے لیے زیادہ اچھا ہوتا۔مگر یہ کہتا ہے کہ جب فرشتے میرے گناہوں پر استغفار کر رہے ہیں تو میں کیوں کروں؟ حالانکہ جب دوسرے کو اس کی حالت پر رحم آ رہا ہے تو اسے اپنی حالت پر کیوں رحم نہیں آتا؟ فرشتے اس پر رحم کھاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ مومن بندہ ہے اس سے غلطی ہو گئی ہے۔آؤ! ہم اس کی طرف سے استغفار کریں مگر یہ اڑ کر بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ فرشتے استغفار کرتے ہیں تو کریں میں کیوں کروں۔گویا یہ اتنا احمق اور بیوقوف ہے کہ بجائے اس کے کہ فرشتوں سے سبق سیکھے اور بجائے اس کے کہ وہ استغفار کر کے اپنے آپ کو فرشتوں کے ساتھ ملانے کی کوشش کرے اُلٹا اڑ بیٹھ جاتا ہے۔حالانکہ اسے سمجھنا چاہیے کہ جب وہ بے گناہ ہو کر استغفار کر رہے ہیں تو میں جو گنہگار ہوں اپنے گناہوں کے لیے کیوں نہ استغفار کروں۔در حقیقت اس آیت میں مومنوں کو اُن کے اس فرض کی طرف توجہ دلائی گ