خطبات محمود (جلد 37) — Page 342
خطبات محمود جلد نمبر 37 342 $1956 دوسری بات یہ ہے کہ مجھے ایک دوست نے مری میں بتایا کہ اس شخص کا ایک دوست سرگودھا میں ایک وکیل کے پاس آیا اور اس نے بیان کیا کہ اس کے بھائی نے ساری زمین پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے۔میں اپنے دوستوں کی ایک پارٹی بنا کر اس کے گاؤں میں جاؤں گا اور ساری زمین اس کے بھائی سے زبردستی چھین کر اسے دوں گا۔اب اگر میں نے کہا کہ وہ اپنے گاؤں جا کے دکھا دے تو اس میں کیا اشتعال انگیزی ہے۔اگر اس کے بھائی نے دیکھا کہ اس کے دوست لاٹھیاں اُٹھائے اس پر حملہ کرنے کے لیے آئے ہیں تو وہ پولیس کو اطلاع دے گا اور اس کی مدد سے انہیں گاؤں سے باہر نکال دے گا اور اگر وہ پولیس کی مدد سے گاؤں سے باہر نکال دے گا تو فساد کیسے ہو گا۔اسی طرح ربوہ کی زمین صدر انجمن احمدیہ نے خرید کی ہوئی ہے اور مرزا ناصر احمد صدرانجمن احمدیہ کا عہدیدار ہے جو اس کے بنائے ہوئے مکان میں رہتا ہے۔اگر مرزا ناصر احمد کو کوئی اس مکان سے باہر نکالنے آئے جو صدر انجمن احمدیہ کی ملکیت ہے تو وہ پولیس کو بلا کر اُس شخص کو ربوہ سے باہر نکلوائے گی یا نہیں؟ اور اگر وہ ایسے آدمی کو پولیس کی مدد سے ربوہ سے باہر نکلوائے گی تو یہ عین امن کا قیام ہو گا کیونکہ یہ زمین کسی سے چھینی ہوئی تو ہے نہیں بلکہ گورنمنٹ سے خرید کی ہوئی ہے اور باقاعدہ رجسٹری کرائی ہوئی ہے۔اگر یہ زمین کسی سے چھینی ہوئی ہوتی تب تو کہا جا سکتا تھا کہ حکومت آپ کی مدد کیوں کرے۔لیکن جب یہ زمین گورنمنٹ سے باقاعدہ خریدی ہوئی ہے اور مرزا ناصراحمد صدرانجمن احمد یہ کا عہدیدار ہے جو اس زمین کی مالک ہے اور جس مکان میں وہ رہتا ہے وہ بھی صدرانجمن احمد یہ کا بنایا ہوا ہے۔تو اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں مرزا ناصر احمد کو ربوہ سے نکالنے آیا ہوں تو وہ پولیس کو اطلاع دے گی کہ نہیں۔اور اگر وہ پولیس کی معرفت اُس آدمی کو ربوہ سے باہر نکلوائے گی تو یہ کارروائی فساد کیسے ہو جائے گی؟ یہ تو عین امن کا قیام ہو گا۔ہمیشہ سے یہ ساری دنیا کا قانون ہے کہ کسی کی مملوکہ زمین یا جائیداد پر زبر دستی قبضہ کرنا مُجرم ہے۔یورپ میں بھی یہ جرم ہے اور امریکہ میں بھی جرم ہے، پاکستان میں بھی مجرم ہے تو پھر ربوہ میں جو مکانات صدر انجمن احمدیہ نے بنائے ہیں اُن میں اگر کوئی شخص ناجائز دخل اندازی کرتا ہے اور ان پر زبر دستی قبضہ کرنا چاہتا ہے تو یہ مجرم کیوں نہیں ہو گا۔اگر کوئی شخص بُرے ارادے سے یہاں آتا ے