خطبات محمود (جلد 37) — Page 333
$1956 333 خطبات محمود جلد نمبر 37 کی حکومت ختم ہو جائے گی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے دعوی میں یقیناً ناکام ہو جائیں گے۔پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ اور مامور بھیجے تو بھیجے احمدیت کے ذریعہ اسلام دنیا میں غالب نہیں آ سکتا۔اب جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دشمن ہے اور ان کی ناکامی کا متمنی ہے وہ تو اس بات کو برداشت کر لے گا لیکن جو سچا مومن ہے وہ اپنی موت تک دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومت قائم کرنے کے لیے تیار رہے گا اور اس کے لیے وہ کسی بڑی سے بڑی قربانی کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔میری ایک بھانجی ہے جو میاں عبداللہ خاں صاحب کی لڑکی اور نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے داماد اور ہمارے بہنوئی تھے پوتی ہے۔اس نے مجھے اپنی ایک خواب سنائی ہے۔معلوم ہوتا ہے وہ خواب اس فتنہ کے متعلق ہے۔اُس نے بتایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ آپ قادیان میں ہیں اور ایک کھیت کے کنارے کھڑے ہیں۔اُس کھیت میں ہل چلا ہوا ہے جیسے کھیتی اگنے والی ہے۔قریب سے ایک سانپ نکلا ہے جسے آپ نے مار دیا ہے اور اُسے مارنے کے بعد آپ نے کہا ہے ایک سانپ تو میں نے مار دیا ہے لیکن دوسانپ مخفی ہو گئے ہیں۔وہ کہتی ہے کہ پھر آپ بیٹھ گئے اور کہا یہ سانپ میٹھے ہیں۔یعنی ان کے کاٹنے کا تو پتا نہیں لگتا لیکن ان کا زہر بڑا خطرناک ہے۔اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو درد ہو رہا ہے اور آپ بہت گھبرائے ہوئے ہیں۔آپ کے پاس آپ کی ایک بیوی بھی بیٹھی ہیں۔انہیں خیال پیدا ہوا کہ سانپ آپ کے بُوٹ میں نہ ٹھس گیا ہو۔اس لیے انہوں نے آپ کے ٹوٹ اور جرابیں اُتاریں۔اس کے بعد آپ نے ہمیں نصائح کرنی شروع کر دیں۔نصائح سنتے سنتے ہماری توجہ دعا کی طرف پھر گئی۔چنانچہ م نے دعا کرنی شروع کر دی۔جو دعا میں نے کی وہ یہ ہے کہ اے خدا! تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری امیدیں پوری کر دے۔گویا دشمن کا یہ حملہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امیدوں پر تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو چاہتے تھے کہ اسلام ساری دنیا میں پھیل لیکن یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔کیونکہ اگر احمدیت کمزور ہو جائے تو اسلام پھیلنے کی کوئی صورت نہیں رہتی۔آخر بیالیس سال میری خلافت کو ہو گئے ہیں۔