خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 303

$1956 303 خطبات محمود جلد نمبر 37 بندوق مانگی اور شکار کے لیے باہر گیا۔ایک بنیا نے مجھ سے کہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گا۔میں نے کہا بہت اچھا۔میں نے بندوق کندھے پر رکھ لی۔اس پر اُس بنیا نے کہا یہ تم کیا کرتے ہو؟ تم نے بندوق کا منہ میری طرف کر دیا ہے۔میں نے کہا ڈرو نہیں۔اس میں کارتوس نہیں ہیں۔اُس نے کہا کارتوس نہ ہوں تب بھی یہ بندوق انسان کو مار دیتی ہے۔انگریزی چیز بڑی خطرناک ہوتی ہے۔اب دیکھو اگر کسی انسان میں اس قدر کم عقل ہو تو دولت کا کیا فائدہ؟ در حقیقت طاقت اور قوت بھی اُسی وقت مفید ہوتی ہے جب عقل پائی جاتی ہو۔عقل کے بغیر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔مسلمانوں کو دیکھ لو اسلام لانے سے پہلے ان کی حالت کس قدر گری ہوئی تھی۔وہ لوگ گو ہیں کھاتے تھے اور ماؤں سے نکاح کر لیا کرتے تھے۔جب مسلمانوں نے ایران پر حملہ کیا تو بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ میں یقین نہیں کر سکتا کہ عرب کے رہنے والے میر۔ملک پر حملہ آور ہوئے ہوں۔وہ تو نہایت ذلیل لوگ ہیں۔انہیں میرے ملک پر حملہ آور ہونے کی جرات کیسے ہو سکتی ہے۔تم ان کے جرنیل کو پیغام دو کہ مجھ سے آ کر ملے۔چنانچہ اس کا پیغامبر اسلامی جرنیل کے پاس پہنچا۔انہوں نے اپنے ایک صحابی افسر کو ایک دستہ کے ہمراہ بادشاہ ایران کے پاس بھیج دیا۔اُس صحابی کے ہاتھ میں نیزہ تھا اور دربار میں لاکھوں روپیہ کی قالینیں بچھی ہوئی تھیں۔وہ صحابی قالین پر اپنا نیزہ مارتے ہوئے گزر گئے۔بادشاہ کو سخت غصہ آیا کہ لاکھوں روپیہ۔روپیہ کے قالین ہیں لیکن یہ شخص ان پر نیزہ مارتے ہوئے آ رہا ہے۔جب وہ صحابی قریب پہنچ گئے تو بادشاہ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا تم لوگوں کو مجھ پر حملہ آور ہونے کی کس طرح جرات ہوئی ہے۔تم لوگ تو اس قدر ذلیل تھے کہ تم گوہ کا گوشت کھایا کرتے تھے اور اپنی ماؤں سے نکاح کر لیا کرتے تھے۔میں تمہارا لحاظ کرتے ہوئے تمہارے ہر سپاہی کو ایک اشرفی اور ہر افسر کو دو اشرفی دوں گا۔تم واپس چلے جاؤ اور حملے کا ارادہ چھوڑ دو۔اُس صحابی نے جواب دیا۔بادشاہ تم ٹھیک کہتے ہو۔ہماری یہی حالت تھی ہم گو ہیں کھاتے تھے اور ماؤں سے نکاح کر لیا کرتے تھے لیکن اب ہماری وہ حالت نہیں رہی۔اب خدا تعالیٰ نے ہم میں اپنا ایک رسول مبعوث کیا ہے جس نے ہمارا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے اور اس نے ہمیں