خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 302

302 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلى ذِكْرِ اللهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ میں مسلمانوں کو یہ سبق دیا ہے کہ جب تمہیں طاقت اور قوت میسر آ جائے تو اپنے ماضی کو نہ بھولو تا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اس طاقت کو قائم رکھے۔لیکن اگر تم اپنے ماضی کو بھول گئے اور تم نے یہ خیال کر لیا کہ یہ سب طاقت اور رعب تمہیں اپنے علم اور عقل کی بناء پر حاصل ہوا ہے تو خدا تعالیٰ تمہارے شیرازہ کو توڑ کر رکھ دے گا۔تم بیشک تجارتیں کر لو گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دو تین سو روپے تمہارے گھر آ جائیں لیکن یہ کوئی بڑی چیز نہیں۔کسی قوم کے پاس بیشک دولت ہو لیکن اُسے دنیا میں کوئی عزت اور وقار حاصل نہ ہو تو وہ زندہ قرار نہیں دی جا سکتی۔انگریزوں کے زمانہ میں بعض ہندوؤں کے پاس کروڑوں روپیہ ہوا کرتا تھا لیکن وہ معمولی چپڑاسیوں سے بھی ڈر جایا کرتے تھے۔میں ایک دفعہ کراچی گیا تو مجھے ایک بنک والے نے بتایا کہ ہمیں فلاں ہندو کو ایک کروڑ روپیہ تک اوور ڈرا (Overdraw) دینے کی اجازت ہے۔پھر ایک دفعہ اُس ہندو کو میرا ایک ایجنٹ ملاقات کے لیے لے آیا وہ بٹھنڈا کا رہنے والا تھا اور بٹھنڈا کی زبان بڑی کرخت ہوا کرتی ہے۔وہاں کے لوگ آپ کی بجائے منوں“ کا لفظ استعمال کیا کرتے ہیں۔ایجنٹ نے خیال کیا۔یہ بہت بڑا تاجر ہے چلو اسے ملا لاؤں۔جب وہ میرے پاس آیا تو اس نے بیٹھتے ہی کہا تمنوں یہاں آئے ہوئے تھے ہمنوں کا جی چاہا کہ تمنوں سے مل لیں۔اس پر ایجنٹ گھبرا گیا اور اس نے خود گفتگو شروع کر دی اور کہا کہ آپ یہاں تشریف لائے تو میں نے خیال کیا کہ چونکہ یہ بڑے تاجر ہیں اور بنک بھی ان کو ایک کروڑ روپیہ تک اوور ڈرا(Overdraw) دیتا ہے اس لیے میں انہیں آپ کی خدمت میں ملاقات کے لیے لے آؤں۔اُس کا خیال تھا کہ شاید وہ ہندو سنبھل جائے اور آپ کا لفظ استعمال کرنے لگ جائے لیکن پھر جب اس نے گفتگو کی تو شمنوں اور ہمنوں کہنا شروع کر دیا۔اس پر ایجنٹ سے برداشت نہ ہو سکا اور اُس نے کہا آپ ہمیں واپسی کی اجازت دیں کیونکہ آپ کا وقت بڑا قیمتی۔اب دیکھو! اس ہندو کے پاس بظاہر بڑی دولت تھی۔لیکن پھر بھی وہ جاہل اور ان پڑھ تھا اور بات کرنے کا سلیقہ تک اسے نہیں آتا تھا۔اسی طرح پیر منظور محمد صاحب سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے کسی شہزادہ ނ