خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 299

$1956 299 خطبات محمود جلد نمبر 37 صنعتیں جاری کرنے کے لیے بھی سکیمیں تیار کر رہے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ ربوہ والوں کے لیے رزق کے سامان پیدا کر رہا ہے۔اب غور کرو کہ یہ کس کا کام ہے؟ یہ کسی انسان کا کام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ ہی ہے جو سب کچھ کر رہا ہے۔یہ اعتراض کرنے والے اُس وقت کہاں تھے جب قادیان پر ہندوؤں نے حملہ کیا تھا۔یہ اُس وقت چھینیں مار رہے تھے اور پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ خلیفہ کی دہائی ہے۔ہمیں یہاں سے جلد نکالو۔اب یہاں امن سے بس گئے تو وہی لوگ اس خلیفہ کے خلاف ہو گئے۔وہ یہ بھول گئے کہ میں ان میں سے ایک ایک آدمی کو لاریوں میں بٹھا کر ہندوؤں سے بچا لایا تھا اور ان میں سے کسی کو میں نے پیدل نہیں چلنے دیا تھا۔بلکہ میں نے حکم دے دیا تھا کہ کوئی شخص پیدل چل کر نہ آئے۔چنانچہ جن لوگوں نے میری بات مان لی وہ لاریوں میں بیٹھ کر لاہور پہنچ گئے اور جنہوں نے میری بات نہیں مانی ان میں سے اکثر فتح گڑھ چوڑیاں اور بٹالہ کے پاس قتل کر دیئے گئے۔پھر لاہور میں میں نے ان کے کھانے اور رہنے کا انتظام کیا۔اس کے بعد میں نے ربوہ کی زمین خریدی اور انہیں یہاں لے آیا۔پہلے انہیں کچھ مکانات بنا کر دیئے گئے۔پھر پختہ مکانات بنائے گئے اور ربوہ کو شہر کی حیثیت حاصل ہو گئی۔جب یہ کی سب کچھ ہو گیا اور انہیں امن میسر آ گیا تو ان میں سے بعض منافق اب میرے خلاف کھڑے گئے ہیں۔حالانکہ انہیں اس طاقت اور قوت اور جتھا کے وقت اپنے ماضی کو نہیں بھلانا چاہیے تھا اور یہی وہ بات ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو ابھی میں نے پڑھی ہے توجہ دلائی ہے۔فرماتا ہے اے مسلمانو! جب تمہیں طاقت اور قوت مل جائے، تمہاری تعداد بڑھ جائے اور تمہیں عزت نصیب ہو جائے اُس وقت تم خدا تعالیٰ کو بھول نہ جاؤ بلکہ تم اُس وقت یہ خیال کرو کہ جو عزت اور دولت تمہیں ملی ہے وہ سب اس کے طفیل ہے۔اگر تم طاقت اور قوت کے وقت خدا تعالیٰ کو بھول جاؤ گے اور اتحاد میں رخنہ ڈالو گے تو یہ ناشکری ہو گی اور اس ناشکری کی عبرتناک مزا تمہیں ملے گی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَ لَبِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ که اگر تم میری نعمتوں کے شکر گزار بنو گے میں تمہیں اور بھی زیادہ انعام دوں گا اور اگر تم نے کفرانِ نعمت کیا تو یاد رکھو! میرا عذاب ہو تو