خطبات محمود (جلد 37) — Page 298
$1956 298 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور اس کی آئندہ سات پشت تک کی نسل اُس پر لعنت بھیجے گی کہ اس کی وجہ سے انہیں ذلت و رسوائی حاصل ہوئی۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے اے مومنو! جب تمہیں یوم الجمعہ نصیب ہو اور تمہیں طاقت اور قوت حاصل ہو جائے تو تم مغرور نہ ہو جاؤ تم دین کی خدمت میں سستی اور غفلت سے کام نہ لینے لگ جاؤ بلکہ اُس وقت تم پہلے سے بھی بڑھ کر دین کی خدمت کرو۔ربوہ کی زمین کو دیکھ لو اسے بھی میں نے ہی خرید کر دیا تھا۔پھر مکانات بنانے کا سوال آیا تو اکثر احمدی اس حالت میں نہیں تھے کہ وہ مکانات بنا سکیں اور بعض ایسے تھے جو ایمان کا بہانہ بنا کر مکان بنانے سے ہچکچا رہے تھے۔وہ کہتے تھے کہ جب ہم نے جلد ہی قادیان چلے جانا ہے تو یہاں مکانات بنانے کا کیا فائدہ۔لیکن میں ہمت سے اپنے ارادہ پر قائم رہا یا یوں کہو کہ خدا تعالیٰ نے مجھے قائم رکھا۔میں نے خطبات اور تقاریر میں احمدیوں کو یہاں آ کر بسنے کے لیے بار بار کہا۔چنانچہ وہ آئے اور انہوں نے مکانات تعمیر کیے اور اب یہ ایک شہر بن گیا ہے۔یہاں پہلے صرف تین خیمے تھے اور اب یہاں پونے چار ہزار مکان بن گیا ہے اور جس رفتار سے مکانات بن رہے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ چند سال میں دس بارہ ہزار مکانات اور بن جائیں گے۔پھر میں نے خطبہ پڑھا اور جماعت کے دوستوں کو کہا کہ وہ یہاں انڈسٹریاں جاری کریں۔چنانچہ جماعت اس طرف بھی توجہ کر رہی ہے۔برف کا کارخانہ بن چکا ہے اور بعض دوسری انڈسٹریاں بھی جاری ہو چکی ہیں۔ایک مستری نے مجھے ایک سلیٹ بھیجی اور کہا کہ میں نے سلیٹ بنانے کا کام شروع کیا ہے اور میں نے دیکھا کہ وہ سلیٹ نہایت اعلیٰ تھی۔گویا اب خدا تعالیٰ جماعت کے دوستوں کو ایک طرح الہام کر رہا ہے کہ یہاں آ کر صنعتیں جاری کریں اور اس طرح میری وہ بات بھی پوری ہو گئی جو میں نے یہاں پہلے جلسہ پر اپنی افتتاحی تقریر میں کہی تھی کہ ہمیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا مقام حاصل ہے۔اس لیے جو ثمرات ابراہیمی دعاؤں کے نتیجہ میں مکہ والوں کو ملے وہ یہاں کے رہنے والوں کو بھی حاصل ہوں گے۔اب دیکھ لو! ایک مستری جو سائنسدان نہیں اسے خدا تعالیٰ نے عقل دی اور اس نے سلیٹ بنانے کی صنعت شروع کر دی اور انہی خشک پہاڑوں کے پتھروں سے کام لینا شروع کر دیا۔پھر جن لوگوں کو میں نے اس کام پر مقرر کیا ہے وہ کئی اور