خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 282

خطبات محمود جلد نمبر 37 282 $1956 میں نے دیکھا ہے بعض لوگ جب عمدگی سے اپنے دوستوں کو سمجھاتے ہیں اور اُن پر حقیقت واضح کرتے ہیں تو وہ اس غرض کے لیے کافی روپیہ دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔چنانچہ ایک دوست نے مساجد کے متعلق اپنے حلقہ اثر میں تحریک کی تو تین چار دن کے اندر اندر چھ ہزار کے وعدے ہو گئے۔پس اگر ہماری جماعت کے دوست انفرادی طور پر دوسروں کو تحریک کرتے رہیں تو اِس طرح بھی ہزاروں روپیہ آ سکتا ہے۔ہاں! جماعتی طور پر مانگنا درست نہیں کیونکہ اس طرح جماعت کی ذلت ہوتی ہے اور پھر ہو سکتا ہے کہ مولوی انہیں جوش دلا دیں یا وہ جماعت کو طعنہ دینے لگ جائیں۔لیکن اگر ایک دوست اپنے دوست کو انفرادی طور پر تحریک کرے تو وہ بالکل اور بات ہو گی۔فرض کرو زید اپنے دوست کو تحریک کرتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ فلاں مسجد کے لیے چندہ ہو رہا ہے اگر تم نے بھی ثواب لینا ہے تو اس میں شریک کی ہو جاؤ تو چندہ مانگنے کا وہ خود ذمہ دار ہوتا ہے۔وہ اس کو تو طعنہ دے سکتا ہے مگر سلسلہ کو نہیں دے سکتا اور سلسلہ کو بہر حال ہر قسم کے طعنہ سے بچانا ہمارے لیے ضروری ہے۔اور اگر ذاتی طور پر وہ اسے کوئی طعنہ دے گا تو وہ اُسے کہہ دے گا کہ تم کوئی مسجد بنانے لگے تو مجھ سے چندہ لے لینا۔مثلاً روس میں تم مسجد بناؤ گے تو اُس وقت میرے پاس بھی آ جانا میں بھی تمہیں چندہ دے دوں گا۔لیکن اگر سلسلہ مانگے تو وہ طعنہ دے سکتا ہے بلکہ مخالف علماء بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ دعوای تو یہ کرتے ہیں کہ ہم ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں لیکن روپیہ ہم سے بھی مانگ لیتے ہیں اور سلسلہ کو اُن کے طعنوں سے بچانا ضروری ہے ورنہ پاکستان کے مختلف دیہات میں جہاں جہاں بھی احمدی زیادہ ہیں اور وہاں مسجدیں ہیں اُن مسجدوں کے بنوانے میں احمدیوں نے ہی سب سے زیادہ حصہ لیا ہے۔گزشتہ فسادات کے دنوں میں ہی لائکپور کے ضلع میں ایک واقعہ ہوا۔ایک جگہ ہمارے ایک آسودہ حال احمدی تھے۔انہوں نے مسجد بنوا دی۔جب فساد ہوا تو تمام لوگ اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے اُس احمدی سے کہا کہ ہم تمہیں اس مسجد میں نماز نہیں پڑھنے دیں گے کیونکہ مولوی کہتے ہیں کہ تم کافر ہو۔وہ کہنے لگا کہ جو تمہاری مسجد ہے خدا کی نہیں۔اس مسجد میں میں بھی نماز پڑھنے کے لیے تیار نہیں۔چنانچہ اُسی دن سے اُس نے گھر میں نماز پڑھنی