خطبات محمود (جلد 37) — Page 268
خطبات محمود جلد نمبر 37 268 $1956 مگر اُسی وقت ایک شخص علاج کے لیے آ گیا اور اُس نے ایک پڑیا میں کچھ رقم لپیٹ کر آپ کے سامنے رکھ دی۔حافظ روشن علی صاحب کو علم تھا کہ روپیہ مانگنے والا کتنا روپیہ مانگتا ہے۔آپ نے حافظ صاحب سے فرمایا کہ دیکھو اس میں کتنی رقم ہے؟ انہوں نے سنا تو کہنے لگے بس! اتنی ہی رقم ہے جتنی رقم کی آپ کو ضرورت تھی۔آپ نے فرمایا یہ اس قارض کو دے دو۔اسی طرح آپ ایک پرانے بزرگ کا قصہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ایک قرض خواہ اُن کے پاس آ گیا اور اُس نے کہا کہ آپ نے میری اتنی رقم دینی ہے اور اس پر اتنا عرصہ گزر چکا ہے۔اب آپ میرا روپیہ ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو ہے نہیں جب آئے گا تمہیں دے دوں گا۔وہ کہنے لگا تم بڑے بزرگ بنے پھرتے ہو اور قرض لے کر ادا نہیں کرتے، یہ کہاں کی شرافت ہے۔اتنے میں وہاں ایک حلوا بیچنے والا لڑکا آ گیا۔انہوں نے اسے کہا کہ آٹھ آنے کا حلوا دے دو۔لڑکے نے حلوا دے دیا اور انہوں نے وہ حلوا اُس قارض کو کھلا دیا۔لڑکا کہنے لگا کہ میرے پیسے میرے حوالے کیجیے۔وہ کہنے لگے کہ تم آٹھ آنے مانگتے ہو اور میرے پاس تو دو آنے بھی نہیں۔وہ لڑکا شور مچانے لگ گیا۔یہ دیکھ کر وہ قرض خواہ کہنے لگا کہ یہ کیسی بے حیائی ہے کہ میری رقم تو ماری ہی تھی اس غریب کی اٹھنی بھی ہضم کر لی ہے۔غرض وہ دونوں شور مچاتے رہے اور وہ بزرگ اطمینان سے اپنی جگہ بیٹھے رہے۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اُس نے اپنی جیب میں سے ایک پڑیا نکال کر انہیں پیش کی اور کہا کہ یہ فلاں امیر نے آپ کو نذرانہ بھیجا ہے۔انہوں نے اُسے کھولا تو اُس میں روپے تو اتنے ہی تھے جتنے قرض خواہ مانگتا تھا مگر اس میں اٹھتی نہیں تھی۔کہنے لگے یہ میری پڑیا نہیں اسے واپس لے جاؤ۔یہ سنتے ہی اُس کا رنگ فق ہو گیا اور اس نے جھٹ اپنی جیب سے ایک دوسری پڑیا نکالی اور کہنے لگا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔آپ کی پڑیا یہ ہے۔انہوں نے اُسے کھولا تو اُس میں اُتنے ہی روپے تھے جو قارض مانگ رہا تھا اور ایک اٹھتی بھی تھی۔انہوں نے دونوں کو بلایا اور وہ روپے انہیں دے دیئے۔غرض زندہ خدا اپنے بندوں کی تائید میں ہمیشہ اپنے نشانات دکھاتا ہے۔انسان بعض دفعہ اپنی بیماری یا کمزوری ایمان کی وجہ سے گھبرا جاتا ہے لیکن جس کے ساتھ خدا ہوتا ہے