خطبات محمود (جلد 37) — Page 256
$1956 256 خطبات محمود جلد نمبر 37 اصلاح اور تغیر پیدا کر لینے سے معاف نہیں ہوتے۔اور بعض گناہ بغیر تو بہ کے بھی معاف : جاتے ہیں۔مثلاً ایک انسان پہلے نمازیں نہیں پڑھتا تھا لیکن پھر اس کے دل میں ندامت پیدا ہوئی اور اُس نے نمازیں پڑھنی شروع کر دیں۔تو اس کے دل میں اپنی پہلی حالت پر ندامت کا پیدا ہو جانا اور آئندہ کے لیے اُس کا نمازیں شروع کر دینا اس کی معافی کے لیے کافی ہے۔لیکن بعض گناہ ایسے ہیں جن کی معافی کے لیے تو بہ ضروری ہے مثلاً شرک کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ ایسا گناہ ہے جو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کر سکتا۔13 اس کے یہ معنے نہیں کہ اللہ تعالیٰ شرک کو کسی صورت میں بھی معاف نہیں کر سکتا بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اس گناہ کی معافی کے لیے تو بہ بھی ضروری ہے۔یعنی صرف یہی کافی نہیں کہ انسان شرک کرنا چھوڑ دے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ساتھ تو بہ بھی کرے۔پس جن گناہوں کے متعلق یہ آتا ہے کہ وہ معاف نہیں ہو سکتے اُس کا یہی مطلب ہے کہ وہ بغیر تو بہ کے معاف نہیں ہو سکتے ورنہ سارے گناہ ہی معاف ہو سکتے ہیں۔اس بات کے نہ سمجھنے کی وجہ سے دنیا میں کئی لوگ ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔چنانچہ عیسائیوں نے یہ ٹھوکر کھائی کہ انہوں نے تو بہ کو ناجائز قرار دے دیا اور مسلمانوں نے یہ ٹھوکر کھائی کہ انہوں نے اباحت کا رستہ کھول دیا اور یہ سمجھ لیا کہ اگر یونہی منہ سے ایک لفظ کہہ دیا جائے تو تو بہ ہو جاتی ہے حالانکہ تو بہ کے اصل معنے یہ ہیں کہ اُس کام سے بچنے کی پوری کوشش کی جائے جو خدا تعالیٰ نے ممنوع قرار دیا ہے۔اور اُس کے حضور اپنے گناہوں کا بار بار اقرار کیا جائے۔مگر ہر گروہ اپنے اپنے رنگ میں چل رہا ہے۔کسی نے شریعت کو باطل کر دیا ہے، کسی نے عمل کو باطل کر دیا ہے اور کسی نے ایمان کو باطل کر دیا ہے اور اس طرح ہر ایک نے اپنی ایک نئی شریعت بنا لی ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كُل حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ 14 ہر گروہ اپنی اپنی تعلیم لے کر بیٹھ گیا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہی ں ہے۔حالانکہ سچی بات وہی ہوتی ہے جو خدا کہتا ہے۔پس انسان کو چاہیے کہ وہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی طرف جھکا رہے اور اُس سے تو بہ کرتا رہے اور اُسے کہے کہ الہی ! اگر تو میرے ساتھ نہیں ہوگا تو میں گمراہ ہو جاؤں گا کیونکہ میرا ہر قدم تیری رہنمائی کا محتاج ہے۔اگر تو اپنی