خطبات محمود (جلد 37) — Page 255
$1956 255 خطبات محمود جلد نمبر 37 رہنمائی اُسے حاصل ہو تو وہ ہدایت پر قائم رہتا ہے اور اگر اُس کا فضل شاملِ حال نہ ہو تو خواہ وہ اچھے لفظ بولے پھر بھی وہ گمراہ ہو جاتا ہے۔پس انسان کی نجات کی یہی صورت ہے کہ ہر وقت اُسے خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل ہو۔اگر یہ نہ ہو تو کوئی انسان صداقت پر قائم نہیں رہ سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی صوفی کا یہ فقرہ سنایا کرتے تھے جو وہ چلتے پھرتے اور اُٹھتے بیٹھتے کہا کرتا تھا کہ ”جو دم غافل سو دم کافر۔جب خدا سے انسان غافل ہو جاتا ہے تو جس لمحہ میں بھی وہ غفلت اختیار کرتا ہے روحانی لحاظ سے کافر ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ وہ رسول کی تعریف کرتا ہے اور اپنی زبان سے وہی الفاظ نکالتا ہے جو خدا تعالیٰ نے کہے ہوتے ہیں مگر چونکہ وہ دل میں ایمان نہیں رکھتا اس لیے ایمان کا اظہار کرنے کے باوجود وہ کافر ہوتا ہے۔پھر بعض دفعہ وہ دوسرے کی تعریف میں ایسے الفاظ اپنی زبان سے نکالتا ہے جو بظاہر بڑے اچھے معلوم ہوتے ہیں مگر چونکہ دل میں وہ ان الفاظ کا کچھ اور مفہوم سمجھتا ہے اور تعریف کی بجائے دوسرے کی تنقیص اس کے مد نظر ہوتی ہے۔اس لیے وہ بھی اچھے الفاظ استعمال کرنے کے باوجود اپنے اندر کفر کا رنگ پیدا کر لیتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم سے پتا لگتا ہے کہ آیات الہیہ پر سچے دل سے ایمان نہ لانا بھی انسان کو اللہ کی ناراضگی کا مستحق بنا دیتا ہے ہے 11 اور یہ ناراضگی بعض دفعہ اتنی بڑھتی ہے کہ قرآن کریم کے بعض الفاظ کو دیکھ کر لوگ یہ دھوکا کھا جاتے ہیں کہ ایسے انسان کی تو بہ بھی قبول نہیں ہوتی مگر یہ درست نہیں۔قرآن کریم نے صاف طور پر فرمایا ہے کہ خواہ کوئی کتنا گنہگار ہو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے 12 صرف ایک فرق ہے جس کو لوگوں نے سمجھا نہیں اور وہ یہ کہ بعض گناہ جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ وہ معاف نہیں ہو سکتے اُس کے معنے یہ ہیں کہ وہ گناہ ایسے ہیں جو تو بہ کے بغیر معاف نہیں ہو سکتے۔بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ تو بہ کے بغیر بھی جب انسان کی عام حالت سُدھر جائے معاف ہو جاتے ہیں اور بعض گناہ ایسے ہیں جو تو بہ کے بعد معاف ہوتے ہیں۔ور نہ کوئی گناہ نہیں جو معاف نہ ہو سکتا ہو۔سارا قرآن اس سے بھرا پڑا ہے کہ اللہ تعالیٰ گنا ہوں کو معاف کرنے والا ہے۔صرف اتنی بات ہے کہ بعض گناہ تو بہ سے معاف ہوتے ہیں صرف