خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 246

$1956 246 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہمارے مبلغ کو نکال دے اور مولوی اس پر خوشیاں منا لیں مگر الہی تدبیر کا وہ کہاں مقابلہ کر سکتے ہیں۔چنانچہ ادھر سپین کی گورنمنٹ نے ہمارے مبلغ کو نوٹس دیا اور اُدھر مراکش کے مسلمانوں نے خط و کتابت شروع کر دی ہے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔گویا اگر ایک ملک ٹانگ کھینچتا ہے تو دوسرا کرسی بچھانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ اسلام کے پھیلنے کے خود سامان کر رہا ہے۔شروع میں بھی جب اسلام پھیلا تھا تو خدا نے ہی پھیلایا تھا بندوں نے کہاں پھیلایا تھا۔کارلائل جو ایک بہت بڑا عیسائی مؤرخ ہے اُس نے ایک کتاب HEROES" AND HERO WORSHIP لکھی ہے۔اس میں وہ ایک جگہ لکھتا ہے کہ عیسائی مؤرخ اپنی کتابوں میں بڑے زور سے لکھتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔میں اس امر کا انکار نہیں کرتا کہ اُس وقت لڑائیاں ہوئی ہیں مگر ایک بات ہے جو ہمیشہ میرے دل میں کھٹکتی ہے اور جس کا کوئی جواب مجھے کسی عیسائی پادری کی طرف سے نہیں ملا کہ اگر اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے تو وہ مجھے یہ بتائیں کہ وہ آدمی جن کی تلواروں سے اسلام پھیلا اور سارا عرب فتح ہوا اُن کو کس تلوار نے مسلمان بنایا تھا۔پھر کہتا ہے جس نے بغیر تلوار کے ایسے بہادر فتح کر لیے جنہوں نے سارے عرب اور ایران اور استنبول کی حکومتوں تک کو اڑا دیا، جس نے بغیر تلوار کے ایسے بہادر پیدا کر دیئے جنہوں نے ایران اور استنبول کو بُھون ڈالا اُس کے لیے بزدلوں اور بھگوڑوں کو فتح کرنا کونسا مشکل کام تھا کہ اسے تلوار کی ضرورت محسوس ہوتی۔اگر بغیر تلوار کے اس نے بہادروں کو فتح کر لیا تھا تو بغیر تلوار کے کمزوروں کو فتح کرنا اُس کے لیے کونسا مشکل کام تھا۔3 بہر حال اسلام نے کمزوری کی حالت میں ترقی کی اور وہ ساری دنیا پر چھا گیا مگر پھر اسلام پر ضعف کا زمانہ آگیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات پوری ہوئی کہ بَدَءَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَ سَيَعُودُ غَرِيبًا 4 یعنی اسلام شروع بھی کمزوری کی حالت میں ہوا جبکہ وہ مسافر تھا اور کوئی اس کا گھر بار نہ تھا اور آئندہ بھی ایک زمانہ میں وہ ایسا ہی کمزور اور بے حقیقت ہو جائے گا جیسے ابتدا میں تھا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی