خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 182

$1956 182 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ رحمان کا ضرور فضل ہو گا۔چنانچہ اُس کا فضل ہوا اور بیماری سمجھ میں آ گئی۔اگر ادھر خواب دیکھتا اور اُدھر سمجھتا کہ فوراً شفا ہو جائے گی تو غلطی ہوتی۔دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اِنَّ الَّذِی فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَآتُكَ إلى مَعَادٍ - 1 یعنی وہ خدا جس نے تجھ پر اپنی شریعت کاملہ نازل کی ہے وہ ضرور تجھے مکہ میں واپس لے آئے گا مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے تو اُس کے دوسرے ہی دن واپس نہیں آگئے ، دوسرے سال بھی واپس نہیں آئے بلکہ کئی سال کے بعد آئے۔تو ہر چیز کا ایک وقت مقدر ہوتا ہے مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرے کہ جو خوا ہیں دکھائی گئی ہیں اُن کو وہ جلدی پورا کر دے۔جیسا کہ خدام کے جلسہ میں میں نے کہا تھا بعض لوگ صرف یہ دعا کرتے ہیں کہ خدا اُن کو لمبی زندگی دے حالانکہ بیماری میں یہ دعا کرنا کہ لمبی زندگی ہو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ تکلیف اور بھی لمبی ہو جائے۔دعا یہ کرو کہ اللہ تعالیٰ صحت والی زندگی دے اور کام کرنے والی زندگی دے۔ایک دوست نے لکھا ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ آپ جمعہ یا عید کا خطبہ پڑھا رہے ہیں اور میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر رہا ہوں کہ یا اللہ ! تیرے پاس تو بڑے بڑے خلیفے ہیں اور تو اگر چاہے تو اچھے سے اچھے خلیفے دے سکتا ہے لیکن ہم نے چونکہ ان کے ساتھ م کیا ہے اس لیے ہمیں ان سے محبت ہے۔تو اپنے فضل سے ان کو صحت دے۔پھر القاء ہوا کہ تم یہ دعا کرو کہ یا اللہ! تو ان کو صحت والی زندگی دے اور کام کرنے والی زندگی دے۔چنانچہ میں نے یہ دعا کی۔اس پر دوبارہ الہام ہوا کہ ایسا ہی ہو گا۔ہم انہیں صحت والی زندگی بھی دیں گے اور کام والی زندگی بھی دیں گے۔پس ایسی خوابوں کے بعد انسان کو یہ دعا کرنی چاہیے کہ الہی! اگر یہ خواہیں پوری نہ ہوئیں تو ہم جھوٹے ثابت ہوں گے۔اس لیے تو اپنا فضل فرما اور ان خوابوں کو پورا فرما دے۔میں نے جو مفتی فضل الرحمان صاحب والی خواب دیکھی تھی اُس کے پانچویں ساتویں دن صحت ہونی شروع ہو گئی تھی۔پس خواب آجانے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ اب اس کام کا کرنا خدا کے ذمہ ہے۔خدا تعالیٰ کے ذمہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی کام نہیں تھا۔اس کے لیے بھی