خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 181

$1956 181 خطبات محمود جلد نمبر 37 مگر نہ مرا اور مرزا صاحب کی پیشگوئی جھوٹی نکلی۔یہ مذاق جاری رہا۔یہاں تک کہ نواب صاحب بھی اس ہنسی میں شریک ہو گئے۔اس پر غلام فرید صاحب جوش میں آ گئے اور انہوں نے کہا چپ رہو! تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اُس شخص کا مذاق اُڑا رہے ہو جس نے ایک عیسائی کے مقابلہ میں اپنی غیرت کا اظہار کیا۔اُس عیسائی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا تھا جس پر مرزا صاحب کو جوش آگیا اور وہ اس کے مقابلہ کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اس عیسائی کی تو تائید کر رہے ہو جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دقبال کہا تھا اور مرزا صاحب کا مذاق اُڑا رہے ہو حالانکہ انہوں نے اسلام کے لیے اپنی غیرت کا اظہار کیا تھا۔پھر انہوں نے کہا تم کہتے ہو آتھم نہیں مرا۔آتھم مر چکا ہے اور اُس کی لاش میری آنکھوں کے سامنے پڑی ہے۔چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد آتھم اس پیشگوئی کے مطابق مر گیا۔اب دیکھ لو! چاچڑاں والے بزرگ سمجھ گئے کہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے مگر نواب بہاولپور نہ سمجھے اور انہوں نے سمجھا کہ پیشگوئی غلط نکلی ہے۔اسی طرح خوابوں کی بھی تعبیریں ہوتی ہیں اور وہ اپنے وقت پر ظاہر ہوا کرتی ہیں۔ابھی چند دن ہوئے میں نے رویا میں دیکھا کہ مفتی فضل الرحمان صاحب آئے ہیں۔جہاں میں سوتا ہوں اُس کے قریب ہی ایک قالین نماز کے لیے بچھا ہوا ہے۔میں نے دیکھا کہ مفتی صاحب آئے اور اُس پر بیٹھ گئے۔اس پر میں بھی اپنی چار پائی سے اُتر کر اُن کے پاس بیٹھ گیا اور میں نے انہیں کہا کہ آپ نے حضرت خلیفہ اول کی صحبت میں بڑا وقت گزارا ہے اور آپ اُن کے کمپاؤنڈ ر ( COMPOUNDER) رہے ہیں۔حضرت خلیفہ اول کو فالج کے علاج کا بڑا دعوی تھا۔آپ کو اُن کے تجربات کا علم ہو تو مجھے بھی بتائیں۔اس پر انہوں نے بڑی لمبی باتیں شروع کر دیں۔مگر مجھے کوئی نسخہ یاد نہ رہا اور آنکھ کھل گئی۔مفتی فضل الرحمان صاحب چونکہ طبیب تھے اس لیے میں نے سمجھا کہ اب اللہ تعالیٰ اپنی رحمانیت کے نتیجہ میں فضل نازل فرمائے گا۔چنانچہ اس رؤیا کے پانچ سات دن کے بعد ڈاکٹروں کی سمجھ میں بھی بات آگئی کہ معدہ اور انتڑیوں کا علاج کرنا چاہیے اور طبیعت سنبھل گئی ورنہ یہ پانچ سات دن ایسے گزرے ہیں جیسے کوئی جہنم میں پڑا ہوا ہو۔مگر میں سمجھتا تھا