خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 160

$1956 160 خطبات محمود جلد نمبر 37 خود اپنی زندگی میں مجھے یہ واقعہ سنایا تھا اور میں نے یہ واقعہ لکھ کر اُسی وقت الفضل میں بھی شائع کرا دیا تھا۔صحیح واقعہ یہ ہے کہ وہ ان دنوں افغانستان میں رہتے تھے اور غیر احمدی تھے۔جس دن مولوی نعمت اللہ خان صاحب کو شہید کیا گیا اُس دن وہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے اور اُس موقع پر موجود نہیں تھے۔اس کے چند ہفتے بعد دو اور احمدیوں کو سنگسار کرنے کا حکم دیا گیا اور وہ ملا عبدالحلیم صاحب اور قاری نور علی صاحب تھے۔ان کی شہادت میں صوفی صاحب شامل تھے۔اُس وقت وہ غیر احمدی تھے اور سمجھتے تھے کہ انہیں پتھر مار کر ہلاک کرنا ثواب کا کام ہے۔اس لیے انہوں نے نہ صرف خود پتھر مارے بلکہ اپنے اُن رشتہ داروں کو جو بھیرہ میں رہتے تھے ثواب میں شریک کرنے کے لیے اُن کی طرف سے بھی پتھر مارے مگر ان دونوں احمدیوں کا ایمان اور ثابت قدمی دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوئے۔انہوں نے دیکھا کہ وہ کس طرح پتھر کھانے کے بعد بھی اپنے عقائد کے سچے ہونے کی شہادت دیتے جاتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہندوستان پہنچے تو انہوں نے بیعت کر لی اور سلسلہ احمدیہ میں شامل ہو گئے۔یہ واقعہ قریباً بتیس سال پہلے کا ہے جو مجھے زیادہ پرانا ہونے کی وجہ سے اور بیماری کی وجہ سے ٹھیک طور پر یاد نہ رہا اور میں نے خطبہ میں یہ بیان کر دیا کہ صوفی صاحب مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی شہادت کے موقع پر کابل میں موجود تھے۔وہ مولوی صاحب کی شہادت کے موقع پر موجود نہیں تھے۔بلکہ دوسرے دو احمدیوں کی شہادت کے موقع پر موجود تھے اور انہوں نے اپنے خیال میں ثواب کی غرض سے ان کو سنگسار کرنے میں حصہ لیا تھا۔جیسا کہ میں پہلے خطبہ میں بیان کر چکا ہوں افغانستان میں ہمارے ایک اور احمدی دوست بھی شہید کر دیئے گئے ہیں۔یہ گزشتہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ربوہ بھی آئے تھے۔جب لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ وہ ربوہ گئے تھے تو انہیں پکڑ لیا گیا اور علاقہ کے حاکم سے کہا گیا کہ اسے موت کی سزا دو مگر علاقہ کا حاکم کوئی شریف آدمی تھا اُس کے دل میں رحم تھا۔اُس نے کہا کہ میں اس کے قتل کی کوئی وجہ نہیں دیکھتا۔ہمارے ملک میں مذہبی آزادی ہے۔جب لوگوں نے دیکھا کہ حاکم علاقہ اسے مارنے کے لیے تیار نہیں تو انہوں نے قید خانہ پر حملہ کر دیا۔اس کے دروازے توڑ دیئے اور اس احمدی کو قید خانہ سے نکال کر لے گئے۔اس کے بعد