خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 139

139 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہوتی ہیں۔پس ان تعلقات کی بنیاد بداخلاقی پر نہیں بلکہ ایک اعلیٰ درجہ کے روحانی مقصد رکھی گئی ہے اور جانوروں کے نرومادہ کے تعلقات کو دیکھ کر اس پر اعتراض کرنا نادانی کی بات کی ہے۔یہ اشتراک محض سطحی ہے جو دونوں میں پایا جاتا ہے ورنہ حقیقت کے لحاظ سے ان دونوں کی آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں۔غرض ایک لمبی تقریر تھی جو میں نے خواب میں کی۔وہی خواب میں نے آج خطبہ میں بیان کر دی ہے۔درحقیقت اس رویا میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولادوں کی اچھی تربیت کریں اور ایسی پاکیزہ نسلیں دنیا میں پیدا کریں کہ ہر شخص کو دیکھ کر یہ ماننا پڑے کہ ان تعلقات کی بنیاد بد اخلاقی پر نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق اور روحانیت پر رکھی گئی ہے۔اگر ان تعلقات کی بنیاد کسی بلند مقصد پر نہیں تو جس طرح گائے پیدا ہو جاتی ہے یا بیل پیدا ہو جاتا ہے اور وہ دنیا میں کسی قسم کے روحانی یا اخلاقی تغیر کا باعث نہیں بنتے۔اسی طرح انسان بھی ہے پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن ہم تو دیکھتے ہیں کہ مرد و عورت کے اختلاط کے نتیجہ میں بسا اوقات ایسی اعلیٰ نسلیں پیدا ہوتی ہیں جو دنیا میں اخلاق کو قائم کرنے والی اور خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے والی ہوتی ہیں۔اگر اس کی بنیاد بہیمیت پر ہوتی تو ان تعلقات کا ایسا شاندار نتیجہ کس طرح پیدا ہوتا۔مامون کے متعلق ہی لکھا ہے کہ اُس نے اپنے دو بیٹوں کو فراء کے پاس جو ایک مشہور نحوی گزرے ہیں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بٹھایا۔ایک دن فقراء کسی کام کے لیے اُٹھا تو دونوں شہزادے دوڑ پڑے تا کہ استاد کے سامنے اُس کی جوتیاں سیدھی کر کے رکھیں مگر چونکہ دونوں اکٹھے پہنچے تھے اس لیے اُن کا آپس میں جھگڑا شروع ہو گیا۔ایک کہتا تھا میں ان کے آگے جوتیاں رکھوں گا اور دوسرا کہتا تھا میں رکھوں گا۔آخر دونوں نے ایک ایک جوتی اٹھا کر اُس کے سامنے رکھ دی۔جب مامون کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو اُس نے فراء سے کہا کہ مَا هَلَكَ مَنْ خَلَفَ مِثْلُک جس نے آپ کی مانند اپنے شاگرد دنیا میں چھوڑے ہوں وہ کبھی فنا نہیں ہو سکتا۔یعنی آپ نے دنیا میں ایسی اخلاقی بنیاد قائم کر دی ہے اور ایسے اپنے شاگرد پیدا کر دیئے ہیں جو آپ کے کام کو ہمیشہ جاری رکھیں گے اور اس طرح آپ کے نام کو زندہ