خطبات محمود (جلد 37) — Page 138
$1956 138 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور عورت کے تعلقات کی بنیاد بد اخلاقی پر ہے۔گویا وہ اس بات پر طعن کرتی ہے کہ اسلام نے ی جو شادی بیاہ جائز رکھا ہے یہ کوئی اچھی بات نہیں۔اُس وقت یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ عیسائیت کی تائید کر رہی ہے اور اُس کی رہبانیت کی تعلیم کو ترجیح دیتی ہے یا محض عقلی طور پر وہ ان تعلقات پر اعتراض کرتی ہے۔میں نے اُسے جواب میں کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ مرد اور عورت کے تعلقات کی بنیاد بد اخلاقی پر رکھے جانے کا خیال اس لیے پیدا ہوا ہے کہ نرومادہ کے تعلقات صرف انسان کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جانوروں میں بھی پائے جاتے ہیں۔چونکہ جانور کسی شریعت کے حامل نہیں بلکہ کسی بڑی اخلاقی تعلیم کے بھی حامل نہیں اس لیے اُن کے سارے کام بہیمیت کے ماتحت ہوتے ہیں اور اُن کو دیکھ کر بعض لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ مرد وعورت کے تعلقات کی جو اسلام نے اجازت دی ہے وہ بھی اس قسم کی چیز ہے حالانکہ مردوعورت کے تعلقات کی بنیاد بہیمیت پر نہیں بلکہ خالص اخلاق اور تقوی پر ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ یا يُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُم مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَ نِسَاءً ع وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا - 1 پس بے شک جانوروں کے نرومادہ بھی آپس میں ملتے ہیں اور مرد و عورت بھی آپس میں ملتے ہیں مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ جانوروں کے نرومادہ آپس میں ملتے ہیں تو اُس کے میں صرف جانور پیدا ہوتے ہیں کوئی اخلاقی یا روحانی تغیر دنیا میں رونما نہیں ہوتا۔لیکن جب مرد و عورت آپس میں ملتے ہیں تو دنیا میں ایسے انسان پیدا ہوتے ہیں جو تقوی اللہ کی بنیاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔اور تقوی اللہ کی بنیاد بہیمیت پر نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی اخلاقی اور روحانی کیفیت پر ہے۔بہر حال یہ شبہ اسی لیے پیدا ہوتا ہے کہ بظاہر جانور اور انسان اس فعل میں اشتراک رکھتے ہیں اور لوگ غلطی سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ جس طرح جانوروں کا یہ جذبہ بہیمیت ہے اُسی طرح انسان بھی بہیمیت کے ماتحت ایسا کرتا ہے۔حالانکہ جانوروں کے آپس میں ملنے کے نتیجہ میں صرف بہیمیت پیدا ہوتی ہے اور مردو عورت کے اختلاط کے نتیجہ میں ایسی پاکیزہ نسلیں پیدا ہوتی ہیں جو خدا کے نام کو بلند کرنے والی اور ذکر الہی کو قائم کرنے والی