خطبات محمود (جلد 37) — Page 111
$1956 111 خطبات محمود جلد نمبر 37 اس طرح پھیلتی چلی جاتی ہے کہ ہمارے ایک دوست نے تحریک جدید کے چندہ کی لسٹ بھیجی تو معلوم ہوا کہ اُن کا وہ لفافہ ضبط ہو گیا ہے اور سی۔آئی۔ڈی کے پاس پہنچا دیا گیا ہے۔سی۔آئی۔ڈی کا ایک افسر اُن کے پاس آیا اور اُس نے دریافت کیا کہ یہ کیا تحریک ہے؟ اُس کا مقصد کیا ہے اور پھر یہ روپیہ کہاں سے آئے گا؟ وہ دوست کہتے ہیں کہ اس افسر کے سوالات سے مجھے محسوس ہوا کہ انہیں میری ارسال کردہ لسٹ سے شبہ ہوا ہے کہ کوئی نئی تحریک جاری کی تانی گئی ہے جو ممکن ہے حکومت اور ملک کے مفاد کے لیے مضر ہو۔چنانچہ میں نے اسے جدید کے متعلق پوری معلومات مہیا کیں جن کی وجہ سے اسے تسلی ہو گئی اور وہ واپس چلا گیا۔وہ لسٹ چونکہ دفتر میں پہنچ گئی ہے اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ سی۔آئی۔ڈی نے اسے ضبط نہیں کیا بلکہ آگے روانہ کر دیا ہے۔ہاں! شبہ کو دور کرنے کے لیے اُس کا ایک افسر لسٹ بھیجنے والے دوست کے پاس گیا اور اُس سے متعدد سوالات کیے۔معلوم ہوتا ہے کہ سی۔آئی۔ڈی کو یہ شبہ پیدا ہوا کہ کوئی ذمہ دار افسر اپنے ماتحتوں سے جبری چندہ لے رہا ہے۔ورنہ پولیس اس غلطی کا ارتکاب نہیں کر سکتی کہ کسی جماعت کے ممبر جماعتی کاموں کے لیے چندہ دیں اور وہ ان کی نگرانی کرنے لگ جائے۔بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے تحریک جدید کے نام کی وجہ سے بالا افسروں کو دھوکا میں ڈالا جا رہا ہے حالانکہ یہ تحریک بائیس سال سے جاری ہے اور اگر دو ہزار سال تک بھی۔تحریک جاری رہے تب بھی اس کا نام تحریک جدید ہی رہے گا۔افسروں کو محض دھوکا دیا جا رہا ہے کہ ہم دوسرے مسلمانوں کو چڑانے کے لیے نئی نئی باتیں نکالتے ہیں۔انہوں نے اس بات کا خیال نہیں کیا کہ یہ تحریک صرف نام کی وجہ سے نئی ہے ورنہ اور کوئی بات نہیں۔اس کی ایسی ہی ہی مثال ہے جیسے ہمارے ملک میں ایک گاؤں کو آباد ہوئے بعض دفعہ سینکڑوں سال کا عرصہ گزر چکا ہوتا ہے لیکن اُس کا نام ”نواں پنڈ ہی ہوتا ہے۔اب نواں پنڈ ہونے کی وجہ سے کوئی شخص یہ شکایت نہیں کرتا کہ حکومت کی زمین پر فلاں شخص نے ایک نیا گاؤں آباد کر لیا ہے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سکھوں اور مغلوں کے عہدِ حکومت میں بھی اس کا نام ” نواں پنڈ ہی تھا۔انگریز آئے تب بھی اُس کا نام ” نواں پنڈ ہی تھا پاکستان بنا تب بھی اس کا نام